خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 439

خطبات محمود جلد نمبر 37 منصو 439 $1956 سے خطرناک مواقع پر خدا تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔پھر علمی طور پر دیکھا جائے تو جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دشمن نے حملہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت کو بچایا اور دشمن کو اُس کے مقصد میں ناکام و نامراد رکھا۔آخری زمانہ میں جب اسلام بہت کمزور ہو گیا تھا تو کہتے ہیں اُس وقت روم کے بادشاہ نے مسلمان بادشاہ کو لکھا کہ میرے پاس کوئی مسلمان عالم بھیجیں میں اُس کی پادریوں سے بحث کرانا چاہتا ہوں۔چنانچہ مسلمان بادشاہ نے ایک عالم بھجوا دیا۔عیسائیوں نے پہلے سے ہی یہ کیا ہوا تھا۔پادری کہنے لگا مولوی صاحب! بتائیے کہ (حضرت) عائشہ والا واقعہ جو احادیث میں آتا ہے وہ کیا ہے؟ مطلب اُس کا طعنہ کرنا تھا۔مسلمان عالم جو غالباً امام ابن تیمیہ یا ان کے کوئی دوست تھے بڑے ہوشیار تھے کہنے لگے پادری صاحب! دنیا میں دو عورتیں گزری ہیں۔ایک عورت کا خاوند تھا۔خبیث لوگوں نے اُس پر الزام لگایا مگر ساری عمر اُس کے کوئی بچہ نہیں ہوا۔لیکن ایک اور عورت ( یعنی حضرت مریم ) تھی جس کا خاوند بھی نہیں تھا۔اُس دشمنوں نے الزام لگایا اور اُس کے ہاں بیٹا پیدا ہو گیا۔اب آپ بتائیے کہ الزام کس عورت پر لگتا ہے؟ اس پر پادری سخت شرمندہ اور لاجواب ہو گیا۔آجکل تو یہ حالت ہے کہ ذرا حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق کوئی بات کہی جائے۔مسلمان شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ حضرت عیسی کی ہتک کر دی گئی ہے مگر اُس وقت کا مسلمان حضرت عیسی کی غیرت کم رکھتا تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیرت زیادہ وی رکھتا تھا۔چنانچہ دیکھ لو۔امام ابنِ تیمیہ یا ان کے دوست روم کے دربار میں ڈرے نہیں بلکہ انہوں فوراً کہہ دیا کہ پادری صاحب! آپ جس عورت کا ذکر کر رہے ہیں اُس کا تو خاوند موجود تھا اور باوجود خاوند ہونے کے اُس کے ہاں ساری عمر اولاد نہیں ہوئی مگر حضرت مریم کا تو خاوند بھی نہیں تھا اور اُس کے ہاں بچہ ہو گیا۔اب آپ بتائیے کہ الزام حضرت عائشہ پر لگا حضرت مریم پر۔غرض ہر موقع پر جب بھی دشمن نے اسلام پر حملہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے کامل مومنوں کو کھڑا کر دیا اور انہوں نے دشمن کے اعتراضات کو رڈ کر دیا مثلاً غدر کے بعد مسلمانوں کی