خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 409

$1956 409 خطبات محمود جلد نمبر 37 اسے کہلا بھیجا کہ تم پہلے فلاں فلاں بات کی تردید کرو اُس کے بعد تمہاری معافی پر غور کیا جائے گا۔تمہارے بعض دوستوں نے ایک مجلس میں کہا تھا کہ میری کسی بیوی کے خطوط اس کے پاس موجود ہیں جن میں اس نے میرا کچا چٹھا لکھا ہے۔اس کے بعد ”سفینہ میں بھی یہی مضمون آیا کہ ہمارے پاس ان کی ایک بیوی کے خطوط موجود ہیں جن میں اس نے ان کی کرتوتیں ایک سہیلی کو لکھی ہیں۔میں نے کہا تمہارے دوستوں کے اس بیان اور سفینہ کے اس بیان کے بعد اگر میں تمہارے پیغاموں یا خطوں پر تم کو معاف کر دوں تو تھوڑے دنوں کے بعد تم اور تمہارے دوست ساری دنیا میں یہ پروپیگنڈا کرتے پھریں گے کہ آخر کوئی بات تھی تبھی ڈر گئے۔پس اب تو معافی کا سوال اُس وقت پیدا ہو گا جب ایسے خطوط شائع ہو جائیں گے اور میں جواب دے دوں گا اور ساری دنیا کو میرے جواب کا علم ہو جائے گا۔اس سے پہلے معافی دے کر الٹا الزام لینے سے مجھے کیا فائدہ ہے؟ ہے بہر حال سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے یہی راہنمائی کی ہے کہ تم مغضوب اور ضال یہودیوں اور عیسائیوں والا طریق اختیار نہ کرو۔اُن کا بھی یہی طریق تھا کہ وہ بغیر سوچے سمجھے ایک راہ کو اختیار کر لیتے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بن جاتے۔اگر یہ لوگ سیدھی طرح صداقت اختیار کر لیں تو نہ کوئی سزا رہتی ہے اور نہ جماعت سے اخراج کا کوئی سوال رہتا ہے۔اگر ایک شخص الفضل والوں کو اپنے دستخطوں کے ساتھ یہ لکھ کر بھجوا ہے کہ میرے متعلق جو یہ کہا جاتا ہے کہ میں خلافت کا امیدوار ہوں یہ بالکل جھوٹ ہے۔ایک خلیفہ کی موجودگی میں میں خلافت کے امیدوار پر لعنت بھیجتا ہوں اور اگر کوئی دوست میری نسبت ایسے خیال کا اظہار کرتا ہے کہ خلیفہ کی موجودگی میں یا اس کے بعد یہ شخص خلافت کا مستحق ہے تو میں اس کو بھی لعنتی سمجھتا ہوں۔اسی طرح جو پیغامی یہ کہتے ہیں کہ جماعت مبائعین حضرت خلیفہ اول کی ہتک کرتی ہے میں اُن کو بھی جھوٹا سمجھتا ہوں۔گزشتہ بیس سال میں میں دیکھ چکا ہوں کہ پیغامی جماعت حضرت خلیفہ اول کی ہتک کرتی رہی ہے اور مبائعین اُن کا دفاع کرتے رہے ہیں۔تو اس کے بعد وہ ہر احمدی سے کہہ سکتے تھے کہ اب ہم اور کیا طریق اختیار کریں۔پھر اگر میرے پاس ان کی منافقت کی کوئی