خطبات محمود (جلد 37) — Page 408
خطبات محمود جلد نمبر 37 408 $1956 جیسا کہ خادم صاحب نے ابھی پچھلے دنوں کیا۔انہوں نے لکھا کہ ایک دن حاجی اللہ دتا صاحب جو گجرات کے رئیس ہیں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے باتوں باتوں میں مجھ سے پوچھا کہ آجکل اخبارات میں آپ کی جماعت کے کسی اندرونی انتشار کا ذکر ہو رہا ہے یہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے کہا یہ ان اخبارات کا پرانا شیوہ ہے اور ہمیشہ ہمارے خلاف جھوٹی خبریں شائع کرتے رہتے ہیں۔اتنے میں ایک شخص اخبار ”سفینہ ہاتھ میں لے کر کمرہ میں داخل ہوا جس میں مجھے بھی مخالفوں میں شامل کیا ہوا تھا۔میں نے حاجی صاحب کو پر چہ دیا اور کہا کہ دیکھیے اس میں یہ لکھا ہے، آپ میرے سامنے بیٹھے ہیں۔بتائیے کیا میں خلیفہ المسیح کے موافقوں میں ہوں یا مخالفوں میں؟ انہوں نے کہا نہیں آپ تو بڑے مخلص ہیں۔میں نے کہا اب آپ ہی فیصلہ کر لیجیے کہ جس طرح میرے متعلق سفینہ نے یہ جھوٹ بولا ہے اسی طرح اوروں کے متعلق کیوں نہیں بول سکتا۔چنانچہ اُسی وقت انہوں نے اس کی تردید لکھ کر مجھے بھجوا دی جو الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔اسی طرح اگر دوسرے اخبارات ان لوگوں کی جن پر شک کیا جا رہا ہے تردیدیں شائع نہ کرتے تو کم از کم اخبار الفضل میں تو وہ چھپوا سکتے تھے اور اخبار الفضل ہر احمدی جماعت میں جاتا ہے۔اگر وہ واقع میں میری بیعت میں شامل ہیں اور اس بیعت پر قائم رہنا چاہتے ہیں تو پچاس دفعہ بھی اگر ان کو مخالف اخبارات کی تر دیدیں لکھ کر بھجوانی پڑیں تو بھجوائیں اور اگر وہ شائع نہ کریں تو الفضل کو بھجوائیں۔اگر الفضل شائع نہ کرے تو پھر بیشک میرے پاس شکایت کی جائے۔مگر وہ یہ طریق اختیار نہیں کرتے اور پھر معافی کے خطوط لکھنا کافی سمجھ لیتے ہیں حالانکہ ان کی طرف سے پہلے مخالف اخبار کے بیانات کی تردید ہونی ضروری ہے۔اگر وہ یہ طریق اختیار کرتے اور دوسرے اخباروں کو تر دیدیں بھجوا دیتے اور اگر وہ شائع نہ کرتے تو الفضل کو بھجوا دیتے تو یہ بالکل سیدھا راستہ تھا تی مگر انہوں نے یہ سیدھا راستہ اختیار نہیں کیا اور صرف اتنا کافی سمجھ لیا کہ ہم نے معافی کے خطوط لکھ دیئے ہیں حالانکہ معافی کے وہ خطوط جو میرے پاس آئے ہیں ان سے غیر احمد یوں کو حقیقت حال کس طرح معلوم ہوسکتی ہے۔ابھی ایک شخص کی طرف سے مجھے معافی کا پیغام آیا تو میں نے اس کے جواب میں