خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 407

$1956 407 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور الفضل کو بھی اس کی نقل بھیج دیتے۔اگر ان میں سے کسی کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ وہ خلافت کا امیدوار ہے تو وہ لکھتا کہ ایک خلیفہ کی موجودگی میں میں خلافت کے امیدوار پر لعنت بھیجتا ہوں اور اس کو اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے بالکل خلاف سمجھتا ہوں۔اور جن لوگوں نے متعلق کہا ہے کہ یہ خلافت کے مستحق ہیں میں ان کو اپنا دوست نہیں سمجھتا۔میں ان کو اپنا اور خبیث سمجھتا ہوں۔اسی طرح اور باتیں جو سلسلہ کے خلاف لکھی ہیں ان کی تردید کرتے اور اگر دوسرے اخبار نہ چھاپتے تو الفضل میں بھجواتے اور اگر الفضل نہ چھاپتا تو میرے پاس شکایت کرتے کہ اب ہمارے لیے کونسا راستہ کھلا ہے۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ باوجود اس کے کہ ڈیڑھ ہفتہ سے لے کر دو مہینہ تک وقت گزر چکا ہے۔انہوں نے یہ صحیح طریقہ اختیار نہیں کیا بلکہ صرف مجھے معافی کے خط لکھ دیتے ہیں تا کہ سلسلہ کے دشمنوں کے ساتھ بھی دوستی قائم رہے اور میں بھی خوش ہو جاؤں۔کوئی عقلمند اس طریق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔صحیح طریق وہی تھا جو صالح نور نے اختیار کیا۔ہم نے اُسے ابھی تک معاف نہیں کیا تا مگر اُس نے راستہ سیدھا اختیار کیا ہے اور اگر اس طریق پر وہ چلتا رہا تو کسی نہ کسی دن اُس کی تو بہ بھی قبول ہو جائے گی۔لیکن دوسرے لوگوں کی طرف سے صرف معافی نامے آتے رہتے ہیں اور معافی کا جو صحیح طریق ہے اُس کو وہ اختیار نہیں کرتے۔قریباً ہر شخص جو اس فتنہ میں ملوث ہے اُس کی طرف سے مجھے معافی کے خطوط آ چکے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ ، اخباروں کو نہیں پڑھتے؟ اگر پڑھتے ہیں تو ان کو چاہیے تھا کہ وہ ان اخبار والوں کو لکھتے کہ ہم ان عقیدوں میں تمہارے ساتھ متفق نہیں۔اور اگر وہ اخبار ان کے اعلانات کو نہ چھاپتے تو ہمیں لکھتے کہ ہم نے ان اخباروں کو تردیدیں لکھ کر بھجوائی تھیں مگر انہوں نے شائع نہیں ہے کیں۔اب ”الفضل میں ہماری طرف سے یہ تردید میں شائع کرا دی جائیں۔اگر وہ ایسا انا کرتے تو ہمیں ان کی بات پر اعتبار آتا اور ہم سمجھتے کہ انہوں نے درست قدم اُٹھایا ہے مگر اخبارات کی تردید نہ کرنا اور ہمیں معافی کی چٹھیاں لکھتے چلے جانا بالکل غلط طریق ہے۔اگر وہ دیانتداری سے سمجھتے ہیں کہ اخبارات میں ان کے متعلق جھوٹ لکھا گیا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ ان اخبار والوں کی تردید کریں۔