خطبات محمود (جلد 37) — Page 406
خطبات محمود جلد نمبر 37 406 $1956 کرے گا۔وہ صرف یہ دیکھے گا کہ اس وقت آپ کی نیت یہ ہے کہ اس کی ہر ہدایت کو قبول کی کریں گے۔اس پر وہ چلا گیا۔پندرہ بیس دن کے بعد اُس کی چٹھی آئی کہ آپ کی بات سچی ہی ہوگئی۔خدا تعالیٰ کا نور میرے آقا کو نظر آ گیا ہے مگر اس کے ساتھ ہی آپ کی یہ دوسری بات ہے بھی سچی ہو گئی کہ اُن سے مانا نہیں جائے گا۔اب نور تو نظر آ گیا ہے مگر انہیں اس کو قبول کرنے کی ہمت نہیں۔معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی صداقت کے متعلق کوئی اشارہ کر دیا ہو گا مگر پھر اس نے سوچا ہوگا کہ اگر میں نے اسلام قبول کر لیا تو میرے بیٹے کی وزارت بھی جائے گی اور میرا کارخانہ بھی تباہ ہو جائے گا اس لیے اسلام قبول کرنے کا کیا فائدہ؟ غرض اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور ہر زمانہ کے لوگوں کے لیے اس دعا میں ہدایت اور راہنمائی کا سامان رکھا ہوا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور وہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کی بجائے غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔مثلاً موجودہ فتنہ میں بھی یہ راستہ کھلا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے اس میں حصہ لیا ہے وہ اللہ تعالی سے دعائیں کرتے کہ الہی ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ان دنوں جماعت سے بُعد اختیار کیا ہے ان میں سے صرف ایک شخص ایسا ہے جس نے صحیح راستہ اختیار کیا ہے باقی کسی نے بھی صحیح طریق اختیار نہیں کیا۔اس نے پہلے تو بہ کی مگر جب اسے کہا گیا کہ تمہاری تو بہ کا کیا اعتبار ہے تو اس نے جھٹ ایک مخالف اخبار کے بیان کی تردید لکھ کر اُسے بھجوا دی کہ مجھ کوئی ظلم نہیں کیا گیا اور میرے بیوی بچے بھی میری تحویل میں ہیں اور پھر اس کی ایک نفی الفضل میں بھی بھیجوا دی اور لکھا کہ میں احمدیت پر قائم ہوں۔یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ مجھے سے میرے بیوی بچے چھین لیے گئے ہیں۔مگر باقیوں کو یہ توفیق نہیں ملی کہ وہ یہی طریق اختیار کرتے۔انہوں نے صرف معافی کی چٹھیاں لکھ دیں۔مگر جب اُن سے کہا گیا کہ مخالف اخباروں میں جو کچھ لکھا گیا ہے تم اُس کی بھی تردید کرو تو انہوں نے یہ بہانہ بنا لیا کہ وہ کوئی ہمارے اختیار میں ہیں کہ ہم تردید لکھیں اور وہ اسے شائع کر دیں۔حالانکہ اگر وہ اخبار ان کے اختیار میں نہیں تھے تو الفضل تو ان کے اختیار میں تھا۔وہ ان اخباروں کو بھی تردید بھیجوا د