خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 327

$1956 327 خطبات محمود جلد نمبر 37 کفر کے لیے یا اُسے جھوٹا قرار دینے کے لیے پہلے دو گواہ ہی کافی ہوں گے۔کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ ان کے مونہوں ایک بات ظاہر ہو چکی ہے اور اس کے گواہ مل گئے ہیں۔اب اسی قسم کی اور باتوں کے ثبوت کے لیے مزید گواہوں کی ضرورت نہیں۔اگر اس کی طرف دس ہزار باتیں بھی منافقت کی منسوب ہو جائیں تو ہم ان پہلے دو گواہوں کی وجہ سے ہی انہیں تسلیم کرتے چلے جائیں گے۔کیونکہ ان کے نتیجہ میں جو بات پیدا ہوئی ہے وہ نئی نہیں۔ہاں اگر نئی بات پیدا ہوتی ہو تو اُس کے لیے اور گواہوں کی ضرورت ہو گی۔جیسے مثلاً گورنمنٹ چوری کے مجرم کو سزا دیتی ہے۔اگر عدالت میں کسی پر چوری کا جرم ثابت ہو جائے تو وہ اُسے قید کی سزا دے دے گی۔اگر وہ شخص دوبارہ چوری کرے تو عدالت اس کے لیے مزید گواہ مانگے گی اور کہے گی کہ پہلے جرم کے دو گواہ ملے تو ہم نے اسے قید کر دیا تھا۔اب اسے مزید قید کی سزا دینی ہو گی اس لیے نئے گواہوں کی ضرورت ہے۔غرض سزا کے تکرار کے ساتھ گواہوں کے تکرار کا تعلق ہوتا ہے اور اگر سزا میں تکرار نہیں تو پھر گواہوں میں بھی تکرار اور اعادہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ کسی شخص کی منافقت کے ظاہر ہونے پر ہر نئے الزام کے لیے نئے گواہوں کی ضرورت ہے وہ یاد رکھیں کہ نئے گواہوں کی اُسی وقت ضرورت ہوتی ہے جب نئی سزا دینی ہو۔اگر نئی سزا نہیں ملتی تو نئے گواہوں کی بھی ضرورت نہیں۔سیدھی بات ہے کہ اگر ایک شخص ایک دفعہ مُردار کھا لے تو اُس کے دوسری دفعہ مُردار کھا لینے سے کیا بنتا ہے۔اس کے ایک دفعہ مردار کھا لینے سے یہ بات ثابت ہو جائے گی کہ اُس کی ذہنیت گند کی طرف مائل ہے۔اگر وہ دوسری دفعہ بھی مُردار کھا لے تو ایک ہی بات ہے۔ہاں! اگر ایک دفعہ مُردار کھانے کی سزا اور ملی ہو اور دوسری دفعہ مُردار کھانے کی سزا اور ہو تو ہم دوسرے الزام کے لیے نئے گواہ طلب کریں گے۔پس نئے گواہوں کی اُس وقت ضرورت ہو گی جب نئی سزا ملنی ہو۔بہر حال اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُجو کچھ ان کے دلوں میں ہے وہ بہت بڑا ہے۔اور چونکہ دلوں کی صفائی خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لیے صرف ریزولیوشن پاس کر کے بھجوا دینے سے کچھ نہیں بنتا۔کیونکہ منافق جو منصوبہ