خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 326

$1956 326 خطبات محمود جلد نمبر 37 جب کوئی شخص ایک جھوٹ بولتا ہے تو وہ ہزار جھوٹ بھی بول سکتا ہے۔صرف ایک جھوٹ ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ایک جھوٹ ثابت ہو جائے تو باقی سارے جھوٹ خود بخود ثابت ہو جاتے ہیں۔ہماری شریعت نے مختلف مجرموں کے لیے گواہوں کی مختلف تعداد رکھی ہے۔کسی مجرم کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی مجرم کے لیے چار گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کسی کا ایک مُجرم ثابت ہو جائے اور اُس کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہو اور وہ دو گواہ مل جائیں تو اُس قسم کے اور مُجرم بھی اگر اُس کے متعلق معلوم ہوں تو وہ بھی ثابت ہو جائیں گے۔ان کے لیے علیحدہ گواہوں کی ضرورت نہیں ہو گی سوائے اس کے کہ باقی مجرموں کے لیے علیحدہ تعزیر ہو۔مثلاً ہماری شریعت نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا رکھا ہے۔7 اب اگر کسی شخص پر چوری کا الزام لگایا جائے اور اس کے دو گواہ ملنے پر اُس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اُس کے دوسرے مجرم کے لیے دو اور گواہوں کی ضرورت ہو گی۔کیونکہ اس کے لیے اُس کا دوسرا ہاتھ کاٹنا پڑتا ہے لیکن اگر دوسرے جُرم کی کوئی علیحدہ تعزیر نہ ہو تو علیحدہ گواہوں کی بھی ضرورت نہیں ہو گی۔مثلاً ایک شخص کو کسی جُرم کی بناء پر اخراج از جماعت کی سزا دی گئی ہے تو اُس کے اس قسم کے مُجرم کے لیے مزید گواہوں کی ضرورت نہیں ہو گی کیونکہ اُس کے دوسرے جُرم کے لیے کوئی علیحدہ تعزیر نہیں۔لیکن اگر کسی شخص کو ایک دفعہ کسی جرم کی بناء پر کوڑے لگائے گئے ہوں تو اُس کے اس قسم کے دوسرے جُرم کے لیے دو مزید گواہوں کی ضرورت ہو گی۔ہاں! اگر دوسرے جُرم کی کوئی نئی سزا نہ ہو تو اس کے پہلے جرم کے گواہ ہی دوسرے جرم کے ثبوت کے لیے کافی ہوں گے کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمُ اكْبَرُ جو ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بڑا ہے جو ظاہر ہو چکا ہے۔اس کے لیے دوسرے گواہوں کی ضرورت نہیں۔اگر کسی کا ایک جرم ثابت ہو جائے تو اس کا دوسرا جرم بھی ثابت ہو جائے گا۔مثلاً اگر کسی کے نفاق اور کفر کی ایک بات ثابت ہو جائے تو اُس کی دوسری نفاق اور کفر کی باتیں بھی درست تسلیم کر لی جائیں گی۔لیکن جن مجرموں کی سزا ہاتھ کاٹنا یا کوڑے لگانا ہے ان میں سے ہر نئے جُرم کے لیے علیحدہ گواہوں کی ضرورت ہوگی کیونکہ اسے پہلے جرم کی سزا دی جا چکی ہے اور نئے جرم پر اور سزا دی جائے گی۔لیکن کسی کے نفاق