خطبات محمود (جلد 37) — Page 14
1956ء 14 خطبات محمود جلد نمبر 37 اب دیکھو! وہی انگلستان جو دنیا میں عیسائیت کی تبلیغ کا مرکز تھا اس میں ایسے لوگ پیدا ہونے لگ گئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتوں کی تصدیق کر رہے ہیں۔ بغیر باپ کے بچہ پیدا ہونا غیروں کے لیے تو الگ رہا خود احمدیوں کے ایک طبقہ کے لیے بھی نا قابل تسلیم امر تھا اور وہ اسے سنة الله کے خلاف خیال کرتے تھے۔ گو اس اعتراض کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دیا ہے کہ وہ کونسا انسان ہے جس نے ساری سنة الله کا احاطہ کر لیا ہو؟ جب کسی انسان کو بھی خدا تعالی کی ساری سنتوں کا علم نہیں تو تم یہ نہ کہو کہ یہ امر سنة الله کے خلاف ہے بلکہ یہ کہو کہ سنۃ اللہ کا جس قدر ہمیں علم ہے یہ بات اس کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔ مگر اب اسی بات کو جو آج سے کئی سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی تھی خود عیسائی مان رہے ہیں۔ اس سے تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ احمدیت کے مخالفوں پر کتنی ضربیں پڑتی ہیں۔ پہلی ضرب تو عیسائیت پر پڑتی ہے کیونکہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح چونکہ بن باپ پیدا ہوئے تھے اس لیے وہ انسان نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے۔ لیکن اب عیسائی ڈاکٹر ہی کہہ رہے ہیں کہ کسی بچہ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا کوئی معجزہ نہیں کیونکہ سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بغیر مرد کے بھی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اور جب عورت بغیر مرد کے بھی بچہ جن سکتی ہے تو اس وجہ سے کہ مسیح بغیر باپ کے پیدا ہوئے اُن کا خدا تعالیٰ کے بیٹے ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پس سائنسدانوں کا یہ انکشاف عیسائیت پر ایک تبر ہے۔ پھر یہ انکشاف اُن مسلمانوں پر بھی ایک تبر ہے جو کہتے تھے کہ مسیح علیہ السلام جبریل کے نفخ روح سے پیدا ہوئے تھے ۔ جب بچہ بغیر باپ کے بھی پیدا ہو سکتا ہے تو جبریل کو حضرت مریم میں نفخ روح کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ آخر بات وہی نکل آئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہی تھی کہ انسان کی پیدائش بغیر باپ کے بھی ممکن ہے اور بغیر باپ کے پیدا ہونے والا انسان انسان ہی رہتا ہے خدا تعالیٰ کا بیٹا نہیں بن جاتا۔ اور پھر اس سے قانون قدرت بھی نہیں ٹوٹتا۔ گویا سائنس کے اس انکشاف سے عیسائیوں، غیر احمدیوں اور غیر مبائعین تینوں پر