خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 15

$1956 15 خطبات محمود جلد نمبر 37 بڑی بھاری ضرب پڑتی ہے۔عیسائیوں پر اس لیے کہ وہ کہتے ہیں مسیح علیہ السلام چونکہ باقی تی انسانوں کے خلاف بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں اس لیے وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے ہیں۔غیر احمد یوں پر اس لیے کہ اُن کا عقیدہ ہے کہ مسیح علیہ السلام جبریل کے نفخ روح سے پیدا وئے تھے۔غیر مبائعین پر اس لیے کہ اُن کا خیال ہے کہ مسیح کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔گویا اس نئے انکشاف نے مسیح علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق تمام تھیوریوں کو غلط ثابت کر دیا اور صرف وہی تھیوری باقی رہ گئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کی تھی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کے لیے نہ خدا تعالیٰ کو یہ ضرورت ا کہ جبریل علیہ السلام کو حضرت مریم کے پاس نفخ روح کے لیے بھیجے ، نہ ان کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ان کی خدائی کا ثبوت ہے اور نہ حضرت مسیح علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونا قانونِ قدرت کے خلاف ہے۔بیشک کہنے والے بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ زمانہ کی ایک رو تھی جس کے باعث یہ بات پیش کی گئی تھی لیکن اگر یہ بات زمانہ کی ایک رو کا ہی نتیجہ ہوتی ز خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض مُرید بھی اس نظریہ کا کیوں انکار کر دیتے۔مولوی محمد علی صاحب نے اس تھیوری کے خلاف نہایت سخت مضمون لکھا ہے لیکن اب خود سائنسدانوں نے ان کے عقیدہ کو غلط ثابت کر دیا ہے۔اس سے پہلے مجھے ڈھاکہ سے بھی ایک اخبار کا کٹنگ آیا تھا جس میں یہی ذکر تھا اور اب لندن سے خط آیا ہے کہ ایک ڈاکٹر نے تقریر کی ہے کہ بغیر باپ کے پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔پہلے یہی سائنس دان اس بات پر ہنسی اُڑایا کرتے تھے کہ مسیح علیہ السلام بغیر باپ کے کس طرح پیدا ہو گئے۔وہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا نہیں مانتے تھے بلکہ سمجھتے تھے کہ مسیح علیہ السلام کی بغیر باپ کے پیدائش کا قصہ ہی غلط ہے لیکن اب خدا تعالیٰ نے خود سائنسدانوں کا دماغ اس طرف پھیر دیا ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدائش کو ممکن کہنے لگ گئے ہیں۔مجھے یاد ہے شروع شروع میں حضرت خلیفہ اسی الاول کو بھی اس بارہ میں تردد تھا اور آپ فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا 1 سے یہ مراد لیتے تھے کہ ممکن ہے حضرت مریم علیہا السلام نے کسی نیک اور فرشتہ سیرت انسان سے شادی کر لی ہو جس کے نتیجہ میں