خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 205

$1956 205 خطبات محمود جلد نمبر 37 سب سے زیادہ ذلیل آدمی یعنی نَعُوذُ بِاللهِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ سے نکال دے گا۔اُس نے تلوار نکال لی اور اپنے باپ سے کہنے لگا تم نے یہ فقرہ کہا تھا اب اونٹ سے اُتر و) اور جس زبان سے تم نے یہ الفاظ کہے تھے اُسی زبان سے یہ کہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں۔اگر تو نے یہ الفاظ نہ کہے تو خدا کی قسم! میں اسی تلوار سے تیری گردن اڑا دوں گا۔باپ نے اُس کی شکل پہچان کر سمجھ لیا کہ یہ بغیر اس اقرار کے مجھے مدینہ میں داخل نہیں ہونے دے گا۔چنانچہ وہ اونٹ سے اُترا اور اُس نے کہا میں اقرار کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سے زیادہ معزز ہیں اور میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں۔جب اُس نے یہ الفاظ کہے تب اُس کے بیٹے نے رستہ چھوڑا اور کہا اب جاؤ۔جب خدا کے رسول نے تمہیں معاف کر دیا ہے تو میں بھی تمہیں کچھ نہیں کہتا۔Z اس سے پتا لگ سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کتنا عشق تھا کہ جب تک اُس نے پہلے فقرہ کے بالکل اُلٹ فقرہ نہ کہلوا لیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اُس وقت تک اُس نے اُسے مدینہ میں داخل نہ ہونے دیا۔مجھے یاد ہے ہماری جماعت میں ایک مخلص مگر نیم پاگل شخص تھا جسے لوگ فلاسفر کہا کرتے تھے۔اصل میں وہ مداری تھا اور لوگوں کو ہتھکنڈے دکھایا کرتا تھا مگر چونکہ ذہین اور ہوشیار آدمی تھا۔لوگ اُسے فلاسفر کہا کرتے تھے۔کبھی وہ غصے میں آ جاتا تو نیم پاگل بھی ہو جایا ہے کرتا تھا۔جب کبھی مالی لحاظ سے اُسے تنگی محسوس ہوتی تھی وہ لاہور چلا جاتا اور لنڈے بازار میں تماشے دکھانا شروع کر دیتا۔ایک دفعہ وہ بازار میں پھر رہا تھا کہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہتک کر دی۔اس پر اُسے غصہ آگیا اور اس نے اس دکاندار کو پیٹا۔یہ دیکھ کر لوگ اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے فلاسفر کو مارنا شروع کر دیا۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب لاہور سے آئے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اس شخص نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے۔یہ لوگوں کو مارتا ہے اور پھر لوگ اس کو مارتے ہیں اور جماعت کی بدنامی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے بلایا اور فرمایا میں