خطبات محمود (جلد 37) — Page 206
$1956 206 خطبات محمود جلد نمبر 37 نے سنا ہے کہ تم لوگوں پر سختی کرتے ہو، اسلام نے سختی کرنے سے منع کیا ہے۔اگر کوئی شخص اتنی مجھے گالی دے تو تمہیں صبر کرنا چاہیے۔میں نے بتایا ہے کہ وہ نیم پاگل سا تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نصیحت کی تو وہ بڑے جوش سے کہنے لگا کہ بس بس ! رہنے دیجیے۔میں یہ نصیحت ماننے کے لیے تیار نہیں۔اگر آپ کے پیر کو کوئی شخص گالی دے تو آپ اُس سے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور میرے پیر کو کوئی گالی دے تو آپ کہتے ہیں صبر کرو میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔اس کا مطلب یہ تھا کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص گالی دیتا ہے تو آپ کو غصہ آ جاتا ہے مگر جب میرے پیر کو کوئی گالی دیتا ہے تو آپ کہتے ہیں صبر کرو۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔غرض یہ اُس کی کیفیت تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر وہ مقدمہ ہوا جس میں عدالت نے آپ کو جرمانہ کی سزا دی تھی تو گو میں اُس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے یاد ہے کہ وہ فیصلہ والے دن پتھر اُٹھائے پھرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے یہ پتھر چُھپا کر عدالت میں لے جانا ہے اور اگر مجسٹریٹ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سزا دی تو میں نے اُسے زندہ نہیں چھوڑنا اس پتھر سے اُس کا سر پھوڑ دینا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو اس کا علم ہوا تو آپ نے کچھ دوست مقرر کر دیئے جنہوں نے اُس کو پکڑ لیا اور آپ نے فرمایا جب تک ہم عدالت سے باہر نہ آ جائیں اور پھر گھر نہ پہنچ جائیں اس کو نہ چھوڑا جائے۔مگر اُس کی یہ حالت تھی کہ وہ کانپتا تھا اور کہتا تھا کہ مجھے چھوڑ دو۔میں نے اُسے آج مار کر چھوڑنا ہے۔تو جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی شخص آتا ہے اُس کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی جاتی ہے۔اور اُس کی جماعت کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ آپس میں محبت رکھتے ہیں۔جب یہ محبت ختم ہو، سمجھ لو کہ تمہارا ایمان بھی ختم ہو گیا ہے۔اگر کوئی شخص اپنے دل یہ محسوس نہیں کرتا کہ اگر کسی احمدی پر ظلم ہو تو میں اپنی جان دے کر بھی اُس کو بچانے کی کوشش کروں گا تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ اُس کا ایمان کمزور ہے۔اگر ملازمتوں میں ترقی کا سوال آتا ہے اور تم سمجھتے ہو کہ افسر تمہاری طرف ہے لیکن اگر تمہیں حق ملے