خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 204

$1956 204 خطبات محمود جلد نمبر 37 جو بعد میں مسلمان ہوا تھا کہنے لگا ابا جان! اُحد کے موقع پر میں ایک پتھر کے پیچھے چھپا ہوا تھا تی کہ آپ وہاں سے گزرے۔اُس وقت اگر میں چاہتا تو آپ کو مار سکتا تھا۔مگر میں نے خیال کیا کہ اپنے باپ کو کیا مارنا ہے۔حضرت ابوبکر نے یہ بات سنی تو فرمایا خدا نے تجھے ایمان نصیب کرنا تھا اس لیے تو بچ گیا ورنہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو تجھے ضرور مار ڈالتا۔کیونکہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے مقابلہ میں نکلا تھا۔اور یہ چیز ایسی تھی جو نا قابل برداشت تھی۔پس اگر میں تجھے دیکھتا تو میں نے تجھے وہیں قتل کر دینا تھا۔6 پھر دیکھو ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک شخص نے ہتک کی اور اُس کے بیٹے کو بھی یہ خبر جا پہنچی کہ میرے باپ نے ایسا فقرہ کہا ہے جو سخت گندہ اور ناپاک ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رَسُول اللہ! اس فقرہ کے بعد میرے باپ کی ایک ہی سزا ہے کہ آپ اُسے قتل کر دیں اور غالباً ! آپ یہی سزا اُس کے لیے تجویز کریں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں۔ہم نہیں چاہتے کہ اُسے کوئی سزا دیں تا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد رسول اللہ اپنے ساتھیوں کو مارتا پھرتا ہے۔اُس نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! میرے باپ کی یہی سزا ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔اور میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ اگر آپ نے اُس کے قتل کا کسی اور مسلمان کو حکم دیا تو ممکن ہے میرا نفس مجھے کسی وقت دھوکا دے اور میں اپنے اس مسلمان بھائی کو دیکھ کر غصہ میں آ جاؤں اور اسے مار دوں اور اس طرح کا فر ہو جاؤں۔اس لیے یا رَسُولَ الله! آپ مہربانی فرما کر مجھے ہی حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کروں تا کہ کسی مسلمان بھائی کا بغض میں دل میں پیدا نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا کہ ہم اُسے کوئی سزا نہیں دینا چاہتے۔اس پر وہ واپس چلا گیا۔مگر اس نے اپنے دل میں یہ نیت کر لی کہ میں نے اپنے باپ کو مدینہ میں داخل نہیں ہونے دینا جب تک کہ وہ اپنے فقرہ کو واپس نہ لے لے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں داخل ہو گئے تو وہ جھٹ تلوار لے کر مدینہ کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ سے کہنے لگا کہ اونٹ سے اُتر آ ( اُس نے یہ الفاظ کہے تھے کہ مجھے مدینہ پہنچ لینے دو۔پھر وہاں کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ کمبخت خود مدینہ کے