خطبات محمود (جلد 37) — Page 203
$1956 203 خطبات محمود جلد نمبر 37 دکان ہو تو وہ اُس کو گرانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور یا پھر ملازمتوں میں ترقی کا سوال ہو تو بعض دفعہ ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔گو ایسے بھی مخلص پائے جاتے ہیں جو دوسروں کے لیے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔مجھے یاد ہے ایک بہت بڑے عہدہ کے لیے ایک دفعہ دو احمدیوں میں مقابلہ ہو گیا۔ایک کو خیال تھا کہ مجھے عہدہ ملے اور دوسرا چاہتا تھا کہ میں اس عہدہ پر جاؤں۔ایک دن ان دونوں میں سے ایک شخص کی بیوی مجھے ملنے کے لیے آئی اور کہنے لگی دعا کریں کہ دونوں میں سے کسی ایک کو یہ عہدہ مل جائے۔میں نے سمجھا کہ اُس کے دل میں حقیقی ایمان پایا جاتا ہے یہ بجھتی ہے کہ گو میرا خاوند اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے یہ عہدہ ملے لیکن اگر اُسے نہیں ملتا تو بہر حال یہ عہدہ دوسرے احمدی کو ملنا چاہیے کسی اور کے پاس نہیں جانا چاہیے۔تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ایسے مخلص بھی ہماری جماعت میں پائے جاتے ہیں۔جب تک یہ اخلاص قائم رہے گا جماعت ترقی کرتی چلی جائے گی۔لیکن اگر وہ بغض جو غیروں میں پایا جاتا ہے احمدیوں میں بھی پیدا ہو گیا اور ان کی آپس کی محبت جاتی رہی تو ان کی طاقت ٹوٹ جائے گی۔جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم آپس میں تنازع نہ کرو ورنہ تمہاری طاقت جاتی رہے گی اور تمہارا رعب زائل ہو جائے گا۔5 پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اس امر کو یاد رکھیں کہ عارضی فائدہ کے لیے وہ کبھی اپنے بھائی کی مخالفت نہ کریں کیونکہ اگر وہ آپس میں لڑے تو غیر اُن کی اس مخالفت سے فائدہ اُٹھا لے گا اور سلسلہ کو نقصان پہنچ جائے گا۔لیکن اگر ایک کو فائدہ پہنچتا ہے اور دوسرا محروم رہتا ہے تو وہ کہے کہ چلو مجھے اگر فائدہ نہیں ہوا تو نہ سہی سلسلہ کی طاقت تو بڑھ گئی ہے۔پس آپس میں اس قسم کی محبت پیدا کرنے کی کوشش کرو جس کی مثال سگے بھائیوں میں بھی نہ پائی جاتی ہو۔صحابہ کو دیکھ لو دین کے معاملہ میں وہ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی بھی پروانہیں کیا کرتے تھے۔کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے اصل بھائی وہی ہیں جو ہمارے ساتھ شامل ہیں۔ایک روز حضرت ابوبکر گھر میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ ان کا ایک :