خطبات محمود (جلد 37) — Page 202
$1956 202 خطبات محمود جلد نمبر 37 قربانی کے جذبہ کو تسلیم کرنے سے نہیں رہ سکا۔احزاب میں دشمن کا لشکر چوبیس ہزار تھا۔مگر وہ وی گھٹا کر اسے پندرہ سولہ ہزار بتاتا ہے اور مسلمانوں کی تعداد صرف بارہ سو تھی مگر وہ اسے بڑھا کر دس ہزار بتاتا ہے۔اور پھر لکھتا ہے کہ حیرت آتی ہے کہ اتنا زبردست لشکر جمع ہوا اور پھر بھی وہ شکست کھا گیا۔اس کے بعد وہ اس پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ مکہ والوں اور یہود سے ایک غلطی ہو گئی اور وہ یہ کہ انہوں نے یہ اندازہ نہیں لگایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ماننے والوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی محبت ہے۔وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح خندق کو عبور کر جائیں۔یہ خندق جو چند دنوں میں کھودی گئی زیادہ سے زیادہ دو اڑھائی گز چوڑی ہو گی اور گھوڑے بعض دفعہ چار چار گز تک بھی ای چھلانگ لگا لیتے ہیں۔پس اس خندق کو عبور کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا۔چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ان کے گھوڑے اس خندق پر سے گود جاتے مگر ان سے غلطی یہ ہوئی کہ وہ سیدھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمہ کی طرف جاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو مارلیا تو سب کو مار لیا۔لیکن جس وقت وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیمہ کی طرف رُخ کرتے تھے مسلمان پاگل ہو جاتے تھے اور وہ بھیڑوں اور بکریوں کی طرح اپنا سر کٹانے کے لیے آگے نکل آتے تھے۔چنانچہ باوجود جیتنے کے کفار کو اپنے گھوڑے دوڑا کر واپس آنا پڑتا تھا۔بلکہ بعض دفعہ ان کے گھوڑے بھی اس خندق میں گر جاتے تھے۔پس انہوں نے غلطی یہ کی کہ وہ سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرتے تھے۔حالانکہ مسلمانوں کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا عشق تھا کہ اس موقع پر ان کا بچہ بچہ مقابلہ کے لیے نکل کھڑا ہوتا تھا۔یہ وہ محبت تھی جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی تھی۔اور پھر ان کی جو آپس میں محبت تھی اُس کا نمونہ بھی ہمیں ان لوگوں میں نظر آتا ہے۔بلکہ ہم میں بھی جو مومن ہیں وہ بھائیوں کی طرح آپس میں محبت رکھتے ہیں۔گو بعض ایسے بھی نالائق ہیں جو کہیں اکٹھے ہو جاتے ہیں تو باقی بھائیوں سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔زیادہ تر ہمیں تاجروں میں یہ نقص نظر آتا ہے۔ان کے پاس ہی کسی اور بھائی کی