خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 113

1956ء 113 خطبات محمود جلد نمبر 37 تو بعض نام بھی اپنے اندر ایک عجوبہ رکھنے والے ہوتے ہیں۔ یہی حال تحریک جدید کا ہے۔ اگر اس پر دو ہزار سال بھی گزر جائیں تب بھی اس کا نام تحریک جدید ہی رہے گا حالانکہ یہ پرانی چیز ہو گی۔ پس اس نام سے دوسرے مسلمانوں کو چڑنے کی ضرورت نہیں اور پھر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اس کا مقصد یورپ اور امریکہ میں اسلام کی اشاعت کرنا ہے۔ اگر یورپ اور امریکہ کے لوگوں کو کلمہ پڑھایا جائے تو اس میں مسلمانوں کے لیے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں ہو سکتی ۔ بہر حال جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں اور ساتھ ہی دعاؤں سے بھی کام لیں کیونکہ ہمیں کیا پتا ہے کہ دوسروں کے دلوں میں کیا زہر بھرا ہوا ہے اور انہیں کیا کچھ دھوکا دیا گیا ہے۔ مثلاً اسی واقعہ کو ہی لے لو اور اس کا مجھے اتفاقاً پتا لگ گیا اور پتا بھی ایک ایسے شخص سے لگا جو جماعت کا ممبر نہیں۔ ہاں! وہ منصف مزاج ہے اور ہر بات کو صحیح نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر میں وہاں نہ جاتا اور وہ افسر مجھے نہ ملتے تو اس بات کا مجھے علم نہ ہوتا۔ پس جو زہر دوسروں کے دلوں میں بھرا ہوا ہے اُس کا علاج سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اس لیے آپ لوگ دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ آپ کے راستہ سے ہرقسم کی روکوں کو دور کرے اور وہ آپ کو اِس طرح کام کرنے کی توفیق دے کہ آپ دل دُکھانے کا موجب نہ بنیں بلکہ لوگوں کی دلجوئی اور دنیا میں امن قائم کرنے کا موجب بنیں اور یہ بات خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے آپ کے اختیار میں نہیں کیونکہ وہی دلوں کے بھید جانتا ہے اور اگر وہ چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔ الفضل 15 مارچ 1956ء)