خطبات محمود (جلد 37) — Page 112
$1956 112 خطبات محمود جلد نمبر 37 نواں پنڈ ہی تھا۔اور اگر پاکستان ہزار سال تک بھی چلا جائے تب بھی اس کا نام نواں پنڈ ہی رہے گا۔قادیان کے پاس بھی ایک گاؤں ” نواں پنڈ تھا۔وہ گاؤں ہمارے دادا نے بسایا تھا اور اس پر اسی نوے سال کا عرصہ گزر چکا تھا لیکن ابھی تک اس کا نام نواں پنڈ ہی ہے۔پھر لاہور کے ضلع میں بھی ایک گاؤں نواں پنڈ ہے۔اگر محض نواں" نام ہونے کی وجہ سے کوئی شخص یہ شکایت کرے کہ کسی نے سرکاری زمین پر نیا گاؤں آباد کر لیا ہے تو اس سے زیادہ احمق اور کون ہو گا۔ہمارے ہاں ایک بچہ تھا جس کی والدہ فوت ہو چکی تھی۔اُس نے غور کرنے کے بعد سمجھا کہ گھر کی آبادی کے لیے ضروری ہے کہ میرا والد دوسرا نکاح کرے۔مگر اسے یہ بھی نظر آتا تھا کہ لوگ اُس کے والد کی عمر بڑی بتلاتے ہیں۔اُس نے دوسروں سے کہیں ”نوجوان کا لفظ سنا ہوا تھا مگر غلطی سے وہ اصل لفظ صرف ”جوان سمجھتا تھا ”نو کو 9 کا ہندسہ قرار دیتا تھا۔ایک دن کہنے لگا لوگ کہتے ہیں کہ میرے باپ کی عمر بڑی ہے حالانکہ وہ ابھی آٹھ جوان ہے۔جس طرح اُسے ”نو“ کے لفظ سے غلطی لگ گئی اور اُس نے اسے 9 کا ہندسہ قرار دے دیا تھا اسی طرح "جدید" کے لفظ سے ہمارے مخالف بھی اس تحریک کو کوئی نئی تحریک سمجھنے لگ گئے ہیں۔عربی میں بھی ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ دورہ کرتے ہوئے ایک گاؤں کے پاس سے گزرا۔اُس نے پوچھا کہ اس گاؤں کا کیا نام ہے؟ اسے بتایا گیا کہ اس کا نام قم ہے اور عربی زبان میں ”قم “ کے معنے ہوتے ہیں کھڑا ہو جا۔اُسے یہ نام بہت پسند آیا۔اُس نے فوراً ایک کاغذ پر یہ حکم لکھ کر شہر کے قاضی کو بھیج دیا کہ يَا قَاضِيَ القُم عَزَلْتُكَ فَقُمْ یعنی اے قسم کے قاضی ! تو کھڑا ہو جا اور یہاں سے نکل جا۔میں نے تجھے معزول کر دیا ہے۔جب اُس کی معزولی کی خبر لوگوں میں مشہور ہوئی تو اُس کے دوست اُس کے پاس آئے اور نہوں نے دریافت کیا کہ یہ حکم کس قصور کی بناء پر نافذ ہوا ہے؟ اُس نے کہا کہ میرا قصور تو کوئی نہیں۔صرف اتنی بات ہے کہ بادشاہ کو یہ قافیہ پسند آ گیا ہے اور اُس نے یہ حکم لکھ کر مجھے بھیج دیا ہے۔