خطبات محمود (جلد 37) — Page 102
$1956 102 خطبات محمود جلد نمبر 37 خریدا نہیں کرتے بلکہ لوگ باہر سے گوبر اُٹھا لاتے ہیں اور اُس کے اوپلے بنا کر جلا لیتے ہیں۔کوئی آسودہ حال دیہاتی تھا۔اس نے ایک دن اپنی ایک خادمہ کو گوبر اکٹھا کرنے کے لیے باہر بھیجا۔اُس دن شدید سردی تھی اور رات اتنا پالا 1 پڑا تھا کہ بعض جانور بیہوش ہو کر گر گئے تھے۔وہ نوکرانی گوبر اکٹھا کرنے کے لیے گئی تو اُسے سردی سے ٹھٹھرا ہوا ایک خرگوش نظر آیا۔وہ اُسے اُٹھا کر گھر لے آئی۔گھر کے سب افراد نے اُسے خوب شاباش دی اور کہا تم بڑی ہوشیار ہو۔تو گوبر اکٹھا کرنے گئی تھی اور شکار مار لائی۔شام تک گھر میں اس نوکرانی کی تعریف ہوتی رہی۔وہ نوکرانی ہوشیار بھی تھی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بیوقوف بھی تھی۔صبح ہوئی تو وہ مالک بی بی! ” میں گوہیاں نوں جاواں یا سئیاں نوں یعنی میں گوبر اُٹھانے جاؤں خرگوش پکڑنے جاؤں؟ اس پر سب گھر والے ہنس پڑے کہ اس کا یہ خیال ہے کہ اسے ہر روز خرگوش مل جایا کرے گا حالانکہ ہر روز خرگوش نہیں ملا کرتا۔اسے کل مل گیا تھا تو یہ ایک اتفاقی بات تھی۔اسی طرح بعض ایسے واقف زندگی بھی ہیں جن کے ساتھ اسی قسم کا اتفاق ہوا۔وہ وقف توڑ کر گئے تو انہیں اچھی ملازمتیں مل گئیں لیکن ہر ایک کو اچھی ملازمت نہیں ملی۔کئی ایسے بھی ہیں کہ وہ وقف سے بھاگے لیکن ابھی تک ملازمت کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔پس دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔جن کو اچھی ملازمتیں مل جاتی ہیں وہ اپنی کامیابی کو یہ طور پر بیان کرتے ہیں کہ دیکھا وقف توڑ کر آئے تھے تو ہمیں اچھی ملازمتیں مل گئیں۔جن لوگوں کو اچھی ملازمتیں نہیں ملتیں اور وہ روزگار کی تلاش میں دھکے کھاتے پھرتے ہیں وہ اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے یہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ مرکز میں واقفین زندگی کی سے اچھا سلوک نہیں ہوتا۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی خانساماں تھا وہ روزانہ لاف زنی تانی ا کرتا تھا کہ صاحب اُس کی بڑی عزت کرتا ہے اور اپنے اہم کاموں میں اُس کا مشورہ لیتا ہے۔ایک دن صاحب غصہ میں تھا۔اُس نے خانساماں کو اندر بلایا اور اُسے خوب مارا۔گھونسوں اور طمانچوں کی آواز باہر بھی سنائی دی جس کی وجہ سے اُس کا سارا بھانڈا پھوٹ گیا۔اُس نے خیال کیا کہ اب کیا ہو گا۔میں تو روزانہ کہا کرتا تھا کہ صاحب میری بڑی عزت کیا