خطبات محمود (جلد 37) — Page 103
$1956 103 خطبات محمود جلد نمبر 37 کرتا ہے اور اپنے ذاتی کاموں میں بھی مجھ سے مشورہ لیتا ہے۔لیکن آج اس نے مجھے خوب مارا ہے اور مار پیٹ کی آواز دوسرے لوگوں نے بھی سن لی ہے، وہ لوگ میرے متعلق کیا خیال کریں اور گے۔چنانچہ وہ باہر آیا اور اس نے اپنی شرمندگی چھپانے کے لیے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر زور سے مارا اور پھر ہا ہا ہا ہا کرنا شروع کر دیا جس کا مطلب یہ تھا کہ دوسرے لوگ یہ خیال کریں کہ صاحب میری تعریف کر رہا تھا اور میں ہاہا کر رہا تھا اور ہاتھ پر ہاتھ مار کر آوازیں نکال رہا تھا۔اسی طرح وہ واقف زندگی اپنی عزت محفوظ رکھنے کے لیے جھوٹے بہانے بناتے ہیں۔میں نے اس مبلغ کا خط پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ ہمارے بعض نوجوان روایتی گید جتنی بھی سمجھ نہیں رکھتے۔اگر انہوں نے روایتی گیدڑ کا قصہ سنا ہوتا تو وہ ان لوگوں کے پرو پیگنڈا سے کوئی اثر نہ لیتے۔کہتے ہیں کوئی ہوشیار گیدڑ تھا۔وہ ایک دن شکار کے لیے باہر گیا۔وہ بڑی عمر کا تھا اور اپنے تجربہ کو ظاہر کرنے کے لیے اکثر مبالغہ آمیز باتیں کیا کرتا تھا۔لیکن اُس دن ایسا ہوا کہ وہ پھنس گیا۔ہم بچپن میں شکار کیا کرتے تھے تو ہم ایک قسم کی گرکی 2 بنایا کرتے تھے اور اُس سے فاختائیں وغیرہ پکڑا کرتے تھے۔بعض بڑے سائز کی گردگیاں ہوتی ہیں جن کے ذریعہ لوگ گیدڑ اور اس قسم کے جانور پکڑتے ہیں۔وہ گیدڑ شکار کی تلاش میں گیا تو اس کی دُم ایک کُرسی میں پھنس گئی جو شکار کی غرض سے کسی نے لگا رکھی تھی۔اس کڑکی میں پھنس جانے کی وجہ سے اس کی دُم کٹ گئی۔جب وہ اپنے ساتھیوں میں گیا تو چونکہ وہ اس سے پہلے اپنی ہوشیاری کی بڑی داستانیں سنایا کرتا تھا اور آج وہ خود دُم کٹوا آیا تھا تئی اس لیے اُس نے اپنی شرمندگی کو چھپانے کے لیے دوسرے گیدڑوں کے سامنے یہ تقریریں کرنی شروع کیں کہ ہماری ساری مصیبت دُم کی وجہ سے ہے۔شکاری گتوں کو ہماری دم نظر آ جاتی ہے اور وہ ہمیں پکڑ لیتے ہیں۔پھر شکاری کڑکیاں لگاتے ہیں تو اُن میں ہماری دُم پھنس جاتی ہے۔اس مصیبت کا بہترین علاج میرے خیال میں یہی ہے کہ ہم سب کو اپنی دُم کٹوا دینی چاہیے۔اس طرح ہم گلی طور پر مصیبت سے نجات حاصل کر لیں گے۔دوسرے گیدڑوں میں ایک ہوشیار گیدڑ بھی تھا۔اُس نے کہا تم ذرا ہماری طرف پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو جاؤ تو ہم یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ تم ہمیں نصیحت کرنے میں کس قدر حق بجانب ہو۔اگر تمہاری دُم ہے تو