خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 101

$1956 101 خطبات محمود جلد نمبر 37 بعض واقفین زندگی ایسے ہیں جنہوں نے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا نہیں کیا اور سلسلہ نے انہیں فارغ کر دیا۔وہ اپنی عزت بچانے کے لیے لوگوں میں کہتے پھرتے ہیں کہ واقفین زندگی سے اچھا سلوک نہیں ہوتا اور وہ اس قدر پرو پیگنڈا کرتے ہیں کہ دوسرے نوجوان بھی اس۔متاثر ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ ہے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ لوگ اپنی عزت بچانے اور اپنی نااہلیت پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسا کہہ رہے ہیں۔یہ اطلاع دینے والے مبلغ ایک ایسے شہر میں رہتے ہیں جہاں ملازمت کے خواہشمند اکثر جاتے رہتے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ ایسے واقفین زندگی جو اپنی بعض غلطیوں کی وجہ سے وقف فارغ کر دیئے گئے ہیں اور وہ تلاش روزگار کے سلسلہ میں اس شہر میں آتے ہیں، وہ دھکے کھاتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی اچھی ملازمت نہیں ملتی۔وہ لوگ اپنی اس ذلت کو چھپانے کی کے لیے کہ انہیں جھک مارنے کے بعد بھی کچھ نہیں ملا اس قسم کا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ مرکز میں اُن سے اچھا سلوک نہیں ہوا۔لوگ انہیں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ لوگ دین کی خدمت سے بھاگے تھے اس لیے انہیں یہاں بھی کچھ نہیں ملا۔اس پر وہ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے کہتے ہیں کہ دراصل مرکز میں واقفین زندگی سے اچھا سلوک نہیں ہوتا۔چنانچہ اس مبلغ نے لکھا ہے کہ غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ لوگوں میں وقف سے بددلی کا اصل موجب انہی لوگوں کا پرو پیگنڈا ہے۔میرا اپنا تجربہ بھی یہی ہے کہ بعض وقف سے بھاگنے والے نوجوان ایسا کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض نوجوانوں کو ہدایت بھی مل جاتی ہے لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔پھر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض ایسے نوجوان بھی ہیں جنہوں نے وقف توڑا اور باہر انہیں اچھی ملازمتیں مل گئیں۔اور کئی ایسے نوجوان ہیں جو وقف سے بھی بھاگے لیکن باہر جا کر بھی انہیں کوئی ملازمت نہ ملی اور وہ جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں۔دونوں مثالیں موجود ہیں۔بہر حال اگر کسی کو وقف سے بھاگنے کے بعد اچھا چانس (Chance) مل جاتا ہے تو اسے قانون نہیں سمجھنا چاہیے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کسی کی کوئی خادمہ تھی۔پنجاب کے دیہات میں عموماً ایندھن