خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 38

$1956 38 88 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور فرموں کی تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔لیکن پھر بھی ایک وزیر ہرتا یا اپنے عہدہ سے استعفی دیتا ہے تو انہیں دوسرا وزیر مل جاتا ہے۔پھر ہم پر یہ کیا آفت ہے کہ ہمیں کسی کارکن کا قائم مقام ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔حالانکہ تمہاری تنخواہوں اور گورنمنٹ کی تنخواہوں میں اتنا فرق نہیں جتنا انگلینڈ اور امریکہ میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ فرموں کی تنخواہوں میں فرق ہے۔اسی طرح تمہارے علماء کو کتابیں تصنیف کرنے کا کوئی شوق نہیں لیکن انگلینڈ اور امریکہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے پچاس پچاس سال تک فاقہ میں رہ کر زندگی بسر کی لیکن اس کے باوجود انہوں نے کئی کتابیں لکھی ہیں۔انگلستان کا ایک مشہور مصنف ہے جس نے انگریزی زبان کی ڈکشنری لکھی ہے۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ اُسے مالک مکان نے مکان سے نکال دیا اس لیے کہ اُس نے کرایہ نہیں دیا تھا لیکن وہاں کے بڑے بڑے لوگ بھی جب اُس کا نام لیتے ہیں تو بڑی عزت سے لیتے ہیں۔شکسپیئر کو ہی لے لو جس کے ڈرامے تمام دنیا میں مشہور ہیں۔اس کے متعلق بھی مشہور ہے کہ بعض اوقات اس پر قرضہ ہو جاتا ہے سے فاقہ میں رہنا پڑتا تو وہ کسی امیر کے ہاں چلا جاتا اور اُس سے کہتا کہ وہ اُسے کچھ دے تا وہ اپنا قرضہ اتار سکے یا فاقہ سے نجات حاصل کر سکے۔غرض وہ لوگ فاقوں کی پروا نہیں کرتے اور علم کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ یہاں علم کو بڑھانے کی طرف کوئی رغبت نہیں؟ یہاں جو بھی عالم ہوتا ہے اُس کی قلم کو زنگ لگ جاتا ہے۔اور پھر اگر کوئی کتاب لکھتا ہے تو ساتھ ہی مجھے درخواست پہنچ جاتی ہے کہ حضور! جماعت کے پاس میری سفارش کریں کہ ہ میری یہ کتاب خرید لے۔لیکن انگلستان اور امریکہ میں یہ رواج نہیں۔وہاں لوگ کتابیں لکھتے ہیں اور کسی مطبع یا فرم کو دے دیتے ہیں کہ تم اسے شائع کر دو نفع اور نقصان تمہارا۔تم اسے بیچو مجھے یہی فائدہ کافی ہے کہ دنیا تک میرا علم پہنچ جائے گا۔اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو تم ایسا کیوں نہیں کرتے ؟ تمہیں بھی چاہیے تھا کہ کتابیں تصنیف کرتے اور کسی ادارہ کو دے دیتے کہ وہ انہیں شائع کر دے۔اور سمجھتے کہ میرے لیے یہی معاوضہ کافی ہے کہ میں اپنے ملک اور قوم میں علم کی اشاعت کا موجب بنا ہوں۔پس تم ان امور پر غور کرو اور جس نتیجہ تک تم پہنچو اُس سے مجھے بھی اطلاع دو۔