خطبات محمود (جلد 37) — Page 492
خطبات محمود جلد نمبر 37 492 $1956 کے سر میں گھس گیا۔آپ بیہوش ہو کر اُن صحابہ کی لاشوں پر جا پڑے جو آپ کے اردگرد لڑتے ہوئے شہید ہو چکے تھے۔اس کے بعد کچھ اور صحابہ آپ کے جسم کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے اور اُن کی لاشیں آپ کے جسم پر جا گریں۔مسلمانوں نے آپ کے جسم کو لاشوں کے نیچے دبا ہوا دیکھ کر خیال کیا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں 4 اور یہ خبر آنافانا تمام مسلمانوں میں پھیل گئی اور وہ اس شہادت کی خبر اپنے اردگرد کے صحابہ کو پہنچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگ پڑے۔جب یہ خبر مدینہ میں پہنچی تو شہر کے مرد اور عورتیں اور بچے سب پاگلوں کی طرح شہر سے باہر نکل آئے اور اُحد کے میدان کی طرف دوڑ پڑے۔اس وقتی شکست کے وقت جو صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے اور جنہیں کفار کے لشکر کا ریلا دھکیل کر پیچھے لے آیا تھا ان میں حضرت عمرؓ بھی تھے۔ان کے کانوں میں بھی یہ خبر پہنچی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں اور وہ شخص جس نے بعد میں قیصر و کسرای کی حکومتوں کو تہہ و بالا کر دیا تھا ایک پتھر پر بیٹھ کر بچوں کی طرح رونے لگ گیا۔اتنے میں حضرت مالک ان کے پاس گئے۔حضرت مالک جنگِ بدر میں شامل نہیں ہو سکے تھے اور جب کبھی صحابہ اس بات کا ذکر کرتے کہ ہم نے اس جنگ میں یہ یہ قربانی کی ہے تو حضرت مالک غصہ میں آ جاتے اور جوش کی حالت میں ٹہلنے لگ جاتے اور کہتے تم نے کیا قربانی کی ہے۔اگر میں اُس وقت ہوتا تو تمہیں دکھاتا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔دنیا میں عام قاعدہ یہ ہے کہ بظاہر ایسا دعوی کرنے والے اپنے دعوی کو پورا نہیں کرتے۔لیکن جنگِ اُحد میں جب وقتی طور پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو اس کا حضرت مالک کو پتا نہیں لگا۔وہ اسلامی لشکر کی فتح کے وقت ہی پیچھے ہٹ گئے تھے اور چونکہ رات سے انہوں نے کچھ کھایا نہیں تھا جب فتح ہو گئی تو وہ اسی چند کھجور میں لے کر پیچھے کی طرف چلے گئے تا کہ انہیں کھا کر اپنی بھوک دور کریں۔وہ فتح کی خوشی میں ٹہل رہے تھے اور کھجوریں کھا رہے تھے کہ ٹہلتے ٹہلتے وہ حضرت عمرؓ کے پاس جا پہنچے ہے اور حضرت عمرؓ کو بچوں کی طرح روتے دیکھ کر کہا عمر! اللہ تعالیٰ نے اسلام کو فتح دی ہے اور تم رو رہے ہو؟ حضرت عمر نے کہا مالک! تم شاید پہلے میدان سے ہٹ آئے ہو۔بیشک دشمن بھاگ گیا تھا اور مسلمانوں نے فتح پائی تھی لیکن بعد میں دشمن نے اچانک مسلمانوں پر حملہ کیا