خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 493

493 $1956 خطبات محمود جلد نمبر 37 جس کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں۔اس پر مالک نے کہا عمر! اگر ی یہ واقعہ ٹھیک ہے تو پھر بھی یہ رونے کا وقت نہیں۔جہاں ہمارا آقا گیا ہے ہمیں بھی وہیں جا چاہیے۔ان کے ہاتھ میں اُس وقت آخری کھجور تھی۔اُسے نیچے پھینکتے ہوئے آپ نے کہا مجھ میں اور جنت میں اس کھجور کے سوا اور کونسی چیز حائل ہے۔یہ کہہ کر آپ نے تلوار سونت لی اور دشمن کی صفوں میں گھس گئے۔دشمن کا لشکر تین ہزار کی تعداد میں تھا لیکن حضرت مالک اکیلے ہی اُس پر حملہ آور ہوئے اور اُس کی صفوں کو چیرتے ہوئے چلے گئے۔آپ زخمی ہو کر گرتے مگر پھر کھڑے ہو جاتے اور دشمن پر حملہ کرتے۔یہاں تک کہ اس لڑائی میں آپ شہید ہو گئے۔بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ مالک کی لاش تلاش کریں۔لیکن باوجود تلاش کے لاش نہ ملی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ ہدایت کی کہ جاؤ اور مالک کی لاش تلاش کرو۔وہ گئے لیکن پھر بھی لاش نہ ملی۔آخر تیسری دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر تلاش کا حکم دیا۔صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہمیں ایک لاش ملی ہے جس کے ستر ٹکڑے ہیں لیکن ہمیں کوئی ایسی علامت نہیں ملی جس کی وجہ سے ہم پہچان سکیں کہ وہ لاش کس کی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مالک کی بہن کو ساتھ لے جاؤ۔چنانچہ صحابہ مالک کی بہن کو ساتھ لے گئے اور اُس نے ایک کٹی ہوئی انگلی کے ایک نشان سے مالک کی لاش کو پہچانا اور کہا یہ میرے بھائی کی لاش ہے۔5 تو دیکھو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں مسلمانوں نے قربانیاں کیں تو مالک نے کہا اگر میں اُس وقت ہوتا تو تم سے بڑھ کر قربانی کرتا اور پھر بعد میں جب وقت آیا تو انہوں نے اپنے اس دعوی کو پورا کر دکھایا۔تمہارے دل میں بھی یہ خیال آتا ہو گا کہ اگر ہم فلاں موقع پر ہوتے تو یوں قربانی کرتے۔مگر اب اللہ تعالیٰ نے تمہیں موقع دے دیا ہے جو دوسروں کو نہیں ملا۔اگر غیر احمدی ایسا کہیں تو وہ معذور ہیں کیونکہ انہیں موقع نہیں ملا۔لیکن تم نہیں کہہ سکتے کیونکہ تمہیں خدا تعالیٰ نے کی اس بات کا موقع دے دیا ہے کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی بھی قربانیاں کرو۔اُس وقت تلوار کا جہاد تھا اور اب تبلیغ اسلام کا جہاد ہے۔اس وقت عیسائیت نے اسلام کو اس قدر کمزور کر دیا ہے کہ جب تک ہم پاگلوں کی طرح باہر نہ نکلیں اسلام غالب نہیں آ سکتا۔