خطبات محمود (جلد 37) — Page 491
$1956 491 خطبات محمود جلد نمبر 37 اور وہ تبلیغ کا بوجھ اُٹھا سکتے ہیں۔لیکن یاد رکھو ایک وقت تک یہ بوجھ صرف تمہیں ہی برداشت کرنا ہوگا کیونکہ اس ملک میں خدا تعالیٰ نے اپنا مامور بھیجا ہے اور خدا تعالیٰ اس ملک کو عزت دینا چاہتا ہے۔لوگ چاہے کتنا شور کریں اور کہیں کہ ہم اتنا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے لیکن بہرحال انہیں یہ بوجھ اُٹھانا پڑے گا کیونکہ خدا تعالیٰ اس ملک کو عزت دینا چاہتا ہے اور اُس نے اس ملک کو اپنے لیے چن لیا ہے۔تمہارے پیچھے جو لوگ آئیں گے وہ کہیں گے کہ کاش! یہ کام ہمارے زمانہ میں ہوتا تو ہم اسے سرانجام دیتے۔معلوم نہیں کہ تمہیں پرانے واقعات کو پڑھ کر ایسی تحریک ہوتی ہے یا نہیں لیکن میں تو جب بھی پرانے واقعات پڑھتا ہوں تو میرے دل میں جوش پیدا ہوتا ہے کہ کاش! میں اُس وقت ہوتا اور قربانی کرتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تو کوئی بے عزتی نہیں کر سکتا کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نبی تھے لیکن تاہم کفار نے ای آپ کو اذیت پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔میں تو جب بھی ان واقعات کو پڑھتا ہوں میرا دل چاہتا ہے کہ کاش! میں اس وقت ہوتا اور وہ ماریں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑیں مجھے پڑتیں۔اسی طرح تمہاری انگلی نسل آئے گی تو وہ لوگ بھی کہیں گے کہ کاش! وہ اُس وقت ہوتے اور جو قربانیاں تم کر رہے ہو وہ کرتے۔لیکن اس وقت وہ تو موجود نہیں تحریک تمہارے سامنے کی جاتی ہے۔مگر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا کہ تمہارے پوتے اور پڑپوتے اور ہمسائے حسرت سے کہیں گے کہ ہمارے باپ دادوں نے اسلام کے لیے وہ قربانیاں نہیں کیں جو کرنی چاہیے تھیں۔اگر ہم اُس وقت ہوتے تو ہم اُن سے بڑھ کر قربانیاں کرتے۔بالعموم یہ فقرہ جھوٹا ہوتا ہے۔کیونکہ کہنے کو تو یہ فقرہ انسان کہہ دیتا ہے لیکن وقت آنے پر اس پر عمل نہیں کرتا۔تاریخ میں ہمیں صرف ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ ایک شخص نے یہ فقرہ کہا اور پھر وقت آنے پر اسے سچا کر دکھایا اور وہ حضرت مالک تھے۔جنگ اُحد میں ایک موقع یر صحابہ کی غلطی کی وجہ سے دشمن آگے بڑھ آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ پھر پھینکنے لگا۔آپ کے پاس بیس کے قریب مسلمان کھڑے تھے۔انہوں نے وہ پتھر اپنی چھاتیوں پر کھانے شروع کیے لیکن پھر بھی کچھ پتھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جا لگے۔آپ اُس وقت حفاظت کی غرض سے خود پہنے ہوئے تھے۔ایک پتھر اس خود پر لگا اور خود کا کیل آر