خطبات محمود (جلد 37) — Page 360
$1956 360 خطبات محمود جلد نمبر 37 استغفار کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم دلیل دو تو یہ نہ سمجھو کہ دلیل بڑی مضبوط ہے اس کا دوسرے پر ضرور اثر ہو گا۔دلیل کا اثر بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔اس لیے صرف دلائل پر انحصار نہ رکھو بلکہ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو کہ خدایا! تو اپنی رحمت اور برکت سے صرف ہمیں ہی حصہ نہ دے بلکہ ہمارے دلوں میں وہ بات ڈال جس سے دوسرا شخص بھی ایمان پر قائم ہو جائے۔اگر تم ایسا کرو گے یعنی ادھر سچائی پر قائم رہو گے اور اُدھر اللہ تعالیٰ کو بھی یاد کرتے رہو گے اور اُس سے دعائیں کرنا اپنا معمول بنا لو گے تو یقیناً تم کامیاب ہو جاؤ گے۔لَعَلَّ کے معنے عام طور پر شاید کے ہوتے ہیں لیکن لغت میں لکھا ہے کہ جب لَعَلَّ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو اس کے معنے یقینی اور قطعی چیز کے ہوتے ہیں۔4 پس لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ کے یہ معنے ہیں کہ اگر تم ایسا کرو گے تو یقیناً کامیاب ہو جاؤ گے۔پس ایک طرف تو شک کو اپنے پاس نہ نے دو اور دوسری طرف ذکر الہی اور دعاؤں پر زور دو۔اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہم نے آج سے دس یا ہیں یا تھیں سال پہلے بغیر کسی دلیل کے آپ کی بات مان لی تھی تو تم کافر تھے مومن نہیں تھے اور اگر تم نے دلیل سے مانا تھا تو دلیلیں باطل نہیں ہوتیں۔قرآن کریم میں بار بار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ موسی کے زمانہ میں یہ بات ہوئی تھی۔اب محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اُسی دلیل سے کیوں ثابت نہیں ہوسکتی۔اگر ایک دلیل سے نوح کی سچائی ثابت ہوتی ہے تو اُس دلیل سے ابراہیم اور موسی کی سچائی بھی ای ثابت ہو سکتی ہے اور قیامت تک ان کی سچائی ثابت ہوتی چلی جائے گی۔اسی طرح اگر میری خلافت کسی دلیل سے آج سے چالیس سال پہلے ثابت تھی تو وہ اُسی دلیل سے قیامت تک بھی ثابت رہے گی کیونکہ دلیلیں نہیں بدلا کرتیں مادی سامان بدلا کرتے ہیں۔مثلاً یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی دلیل سے حضرت عیسی علیہ السلام کو آج سے اُنہیں سو سال پہلے نبی مانا جائے اور اُسی دلیل سے ہم انہیں جھوٹا کہنے لگ جائیں۔جس دلیل سے حضرت عیسی علیہ السلام آج سے اُنیس سو سال پہلے بچے ثابت ہو چکے تھے اُسی دلیل سے وہ قیامت تک سچے ثابت ہوتے چلے جائیں گے۔یہی حال دوسرے انبیاء کا ہے۔جن دلائل اور براہین سے اُن کی نبوت