خطبات محمود (جلد 37) — Page 359
$1956 359 خطبات محمود جلد نمبر 37 کہ آپ نے کیا کہنا ہے۔چنانچہ اگلے جمعے اُسے پھر خطبہ کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔وہ کھڑے ہو کر اپنے دائیں طرف کے لوگوں سے کہنے لگا ارے لوگو! تمہیں پتا ہے کہ میں نے کیا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا ”جی ہاں۔پھر وہ بائیں طرف کے لوگوں سے مخاطب ہوا اور کہنے لگا ارے لوگو! تمہیں پتا ہے میں نے کیا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا ”جی ہاں“۔وہ کہنے لگا جب تمہیں پہلے ہی پتا ہے تو تمہیں سنانے کی کیا ضرورت ہے۔محض وقت ضائع کرنے والی بات ہے اور یہ کہ کر وہ منبر سے نیچے اتر آیا۔لوگوں نے پھر آپس میں مشورہ کیا کہ کوئی اور تدبیر سوچو۔آخر عظمند نے کہا کہ اب کی دفعہ ایک فریق کہہ دے ہاں اور دوسرا فریق کہہ دے نہیں۔چنانچہ اگلے جمعے وہ پھر کھڑا ہوا اور اپنے دائیں طرف کے لوگوں سے کہنے لگا ارے لوگو! تمہیں پتا۔کہ میں نے کیا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر وہ بائیں طرف کے لوگوں سے کہنے لگا ارے لوگو! تمہیں پتا ہے کہ میں نے کیا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔وہ کہنے لگا بس بات آسان ہو گئی۔جنہوں نے ہاں کہا ہے وہ نہ کہنے والوں کو سمجھا دیں۔اسی طرح میں بھی تم لوگوں سے کہتا ہوں کہ اے لوگو! تم نے مجھے کس دلیل سے مانا تھا؟ اگر کسی دلیل کے بغیر تم نے مجھے مان لیا تھا تو چونکہ خلافت ایک مذہبی چیز ہے اس لیے جب دلیل کے بغیر تم نے مجھے مانا تھا تو تم کافر ہو گئے تھے۔لیکن اگر تم نے کسی دلیل سے مجھے مانا تھا تو تم گھبراتے کیوں ہو؟ وہی دلیل ان لوگوں کے سامنے پیش کر دو۔یہی قرآن کریم نصیحت کرتا ہے اور فرماتا ہے فَاثْبُتُوا اگر دلیل سے تم نے مانا تھا تو تم ہلتے کیوں ہو؟؟ مضبوطی سے قائم رہو مگر فرماتا ہے بیشک دلائل سے کسی صداقت پر قائم رہنا بھی بڑی اچھی بات ہے مگر ہم تمہیں یہ بھی نصیحت کرتے ہیں کہ وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تمہاری دلیلیں بیشک مضبوط سہی مگر اگلے آدمی کو منوانا اور اُسے قائل کر دینا تمہاری طاقت میں نہیں۔یہ کام خدا ہی کر سکتا ہے۔اس لیے جب دشمن کے مقابلہ میں جاؤ تو دعائیں کرتے رہو اور دل میں استغفار پڑھتے جاؤ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق حدیثوں میں آتا ہے کہ آپ جب مجلسوں میں بیٹھتے تھے تو ستر ستر دفعہ استغفار کرتے تھے۔اس کے یہ منے نہیں کہ آپ اپنے لیے استغفار کرتے تھے بلکہ مجلس میں بیٹھنے والوں کے لیے