خطبات محمود (جلد 37) — Page 361
$1956 361 خطبات محمود جلد نمبر 37 ثابت ہو چکی ہے اُنہی دلائل اور براہین سے ان کی نبوت قیامت تک ثابت ہوتی رہے گی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ - 5 صدق کے معنے عربی زبان میں قائم اور دائم رہنے والی چیز کے بھی ہوتے ہیں۔پس اس آیت کے معنے ہیں کہ ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی تعریف یا ہمیشہ رہنے والا مقام ہے کوئی اسے باطل نہیں کر سکتا۔آخر نوح کو کسی نے بڑا تاجر کر کے نہیں مانا تھا، بڑا مالدار کر کے نہیں مانا تھا صرف نبی کر کے مانا تھا۔پس جو دلیل نوح کو اُس وقت سچا ثابت کرتی تھی وہ دلیل آج بھی اس کو سچا ثابت کرتی ہے اور قیامت تک اسے سچا ثابت کرتی چلی جائے گی۔جو دلیل ابراہیم کو اس وقت سچا ثابت کرتی تھی جب وہ نبی بن کر آیا وہی دلیل آج بھی اس کو سچا ثابت کرتی ہے اور قیامت تک اسے سچا ثابت کرتی چلی جائے گی۔جو شخص یہ کہے کہ فلاں دلیل ابراہیم کے وقت میں تو اُسے سچا ثابت کرتی تھی مگر میرے زمانہ میں اُسے سچا ثابت نہیں کرتی تو تم سمجھ لو کہ ایسے انسان کو ہم کذاب اور مفتری کہنے کے سوا اور کیا کہیں گے۔اگر واقع میں وہ کسی دلیل سے سچا ثابت ہوتا تھا تو وہ آج بھی سچا ہے اور قیامت تک سچا ثابت رہے گا۔پس قرآن کریم مومنوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ فاثبتوا جب تم نے ایک صداقت کو دلیلوں سے مانا ہے تو پھر اُس پر مضبوطی سے قائم رہو۔اور چاہے کتنا بڑا ورغلانے والا تمہارے پاس آ جائے تم سمجھ لو کہ وہ شیطان ہے۔اور خواہ سارے جہان کے اولیاء کا جبہ بھی اُس نے پہن رکھا ہو اُس تُھوک دو اور کہو کہ تو ہمیں ورغلانے کے لیے آیا ہے، ہم تیرے دھوکا اور فریب میں نہیں ا دیکھو! بعض ان پڑھ لوگ ہوتے ہیں مگر بڑے سمجھدار اور ہوشیار ہوتے ہیں۔گجرات کے ضلع میں چک سکندر کے قریب بھاؤ گھسیٹ پور ایک گاؤں ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں چند نہایت ہی مخلص بھائی رہا کرتے تھے۔میں اُس وقت چھوٹا تھا مگر مجھے خوب یاد ہے کہ وہ بڑے شوق سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں آ کر بیٹھا کرتے تھے اور بڑے محظوظ ہوا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک سالے تھے جن کا نام علی شیر تھا۔چونکہ خدائی منشا اور اُس کے احکام کے ماتحت آب