خطبات محمود (جلد 37) — Page 344
خطبات محمود جلد نمبر 37 344 $1956 ارتکاب سے پہلے روکا جاتا۔چونکہ انگریزی قوانین کی نقل ہو رہی ہے اور قاعدہ بنایا گیا ہے کہ وقوعہ ہولے تو پولیس کارروائی کرے گی اس لیے وہ ایک حد تک محفوظ ہے حالانکہ اگر کوئی منہ سے اقرار کرتا ہے کہ میں فلاں مجرم کروں گا تو وہ کم از کم اس تعزیز کے نیچے آ جاتا ہے کہ پولیس اس کے خلاف کارروائی کرے اور اُس سے تحریر لے کہ اُس نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ جو شخص اس غرض سے یہاں آئے گا کہ وہ مرزا ناصر احمد کو ربوہ سے نکال دے وہ ربوہ میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ مرزا ناصر احمد صدرانجمن احمدیہ کا ملازم ہے اور اُس کے بنائے ہوئے مکان میں رہتا ہے۔اگر کوئی اسے ربوہ سے نکالے گا تو اس کے معنے ہیں کہ وہ صدرانجمن احمدیہ کو اُس کی خریدی ہوئی زمین کے قبضہ سے محروم کرنا چاہتا ہے۔شہر میں داخل ہونے کے یہ معنے نہیں کہ یہاں ٹھوک کر چلان جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی من مانی کارروائی کرئے"۔1 : لقمان: 39 2 : تذکرہ صفحہ 94 ایڈیشن چہارم 2004 ء 3 : تذکرہ صفحہ 94 ایڈیشن چہارم 2004 ء الفضل 14 اگست 1956ء 4: وَإِنْ كَادُوا لَيَسْتَفِزُوْنَكَ مِنَ الْأَرْضِ لِيُخْرِجُوكَ مِنْهَا وَإِذًا لَّا يَلْبَثُونَ خِلْفَكَ إِلَّا قَلِيلًا (بنی اسرائیل : 77) 5 : إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَاتُكَ إِلَى مَعَادٍ (القصص: 86) : اِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ، وَيُنزِلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا (لقمان: 35) : مَا كَانَ اللهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَكِنَّ اللهَ يَجْتَبِي مِنْ رُّسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ " (آل عمران : 180)