خطبات محمود (جلد 37) — Page 343
خطبات محمود جلد نمبر 37 343 $1956 اور ان مکانات کے مکینوں کو باہر نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو صدرانجمن احمد یہ پولیس کی نی مدد سے اُسے ربوہ سے ضرور باہر نکلوائے گی کیونکہ کسی کی جائیداد میں دوسرا شخص بغیر اس کی اجازت کے دخل اندازی نہیں کر سکتا۔بلکہ پولیس کا فرض ہے کہ وہ اس کی جائیداد د پر کسی کو زبردستی سے قبضہ نہ کرنے دے۔پس اگر کوئی شخص ناجائز دخل اندازی کرتا ہے اور ان صدر انجمن احمدیہ کی ملکیتی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو اسے باہر نکالنا اور اپنی جائیداد کی حفاظت کرنا صدرانجمن احمدیہ کا قانوناً حق ہے اور یہ عین قانون ہے۔اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ قانون کے خلاف ہے اُس کی عقل ماری گئی ہے اور اس پر اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔پس میں نے پہلے بھی کہا ہے اور اب پھر کہتا ہوں کہ ربوہ کی زمین صدر انجمن احمد یہ کی خرید کردہ ہے اور مرزا ناصر احمد اس کا عہدیدار ہے اور صدر انجمن احمدیہ کے بنائے ہوئے مکان میں رہتا ہے۔اس لیے کوئی آئے اور اسے باہر نکال کر دکھائے۔اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرے گا تو پولیس اسے ربوہ سے باہر نکال دے گی کیونکہ یہ ناجائز دخل اندازی اور زبردستی قبضہ کرنا ہے اور پولیس کا فرض ہے کہ ایسے شخص کو ربوہ سے باہر نکال دے۔اگر پولیس کسی شخص کو شہر سے باہر نکال دے تو یہ فساد کا موجب کسی طرح ہو سکتا ہے۔خصوصاً جبکہ گواہ بھی مل جائیں کہ وہ بد ارادہ سے یہاں آیا ہے۔اگر پولیس کو پتا لگ جائے کہ کوئی شخص صدرانجمن احمدیہ کے کسی بڑے افسر کو زبردستی نکالنے آیا ہے اور وہ کوئی کارروائی نہ کرے تو خود پولیس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور عدالت یا حکومت کا دروازہ کھٹکھٹایا جا سکتا ہے۔کیونکہ اس کی ملکیت کی حفاظت کرنا پولیس کا فرض ہے۔اگر کوئی شخص اس میں دخل اندازی کرے تو یقیناً پولیس اُس کو روکے گی اور یہ قانون کے مطابق ہو گا، عقل کے مطابق ہو گا اور شریعت کے مطابق ہو گا۔ورنہ جب تک ناجائز دخل اندازی کا قانون باقی ہے میرا یہ کہنا درست ہے کہ کوئی شخص ربوہ میں داخل ہو کر مرزا ناصر احمد کو نکال کر تو دکھائے۔اور جو شخص کہتا ہے ہے کہ میں مکان کے مالک یا اُس کے نمائندہ کو نکال دوں گا وہ اپنی زبان سے جُرم کا اقرار کرتا ہی ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ وہ بد ارادہ سے آیا ہے۔اگر اسلامی حکومت ہوتی تو وہ مجرم کے