خطبات محمود (جلد 37) — Page 266
$1956 266 خطبات محمود جلد نمبر 37 ابراہیم کے زمانہ میں زندہ خدا تھا تو موسی کے زمانہ میں لوگ اس کی کیوں تعریف کرتے ؟ اور اگر وہ صرف موسی کے زمانہ میں زندہ خدا تھا تو عیسی کے زمانہ میں لوگ اس کی کیوں تعریف کرتے ؟ اور اگر وہ صرف عیسی کے زمانہ میں زندہ خدا تھا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں لوگ اس کی کیوں تعریف کرتے؟ اور اگر وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں زندہ خدا تھا تو آج کے زمانہ کے لوگ اس کی کیوں تعریف کرتے؟ وہ زندہ ہے اور زندہ رہے گا اور ہر زمانہ کے لوگ اس کی تعریف کرتے چلے جائیں گے اور اس کے نشانات سے اپنے ایمانوں کو تازہ کرتے رہیں گے۔اور جب بھی اُس کے بندے مشکلات میں پھنسیں گے اور اس کے دین پر تکلیف کا زمانہ آئے گا وہ اپنے مخفی الہام سے انسانوں کے دلوں میں تحریک کرے گا کہ اُٹھو اور میرے دین کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جاؤ اور سچے مومن لبیک کہتے ہوئے اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جائیں گے اور دین کو مشکلات سے نکال لیں گے۔یہاں تک کہ دنیا حیران ہو جائے گی اور شیطان مایوسی سے مر جائے گا۔جب 1953ء میں فسادات ہوئے تو اُس وقت میں نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ اے احمد یو! تم گھبراؤ نہیں میں دیکھتا ہوں کہ خدا ہماری مدد کے لیے دوڑا چلا آ رہا ہے۔اور میرے اس اعلان کے معاً بعد لاہور میں مارشل لاء نافذ ہو گیا۔اُس وقت بعض افسروں نے کہا کہ آپ کے اس فقرہ سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔میں نے اُن کو جواب دیا کہ جب مجھے خدا آتا ہوا نظر آتا ہے تو کیا میں جھوٹ بولوں؟ خدا تعالیٰ ہمیشہ ہی اپنے سچے بندوں کی ما کے لیے آیا کرتا ہے اور اب بھی آئے گا اور ہمیشہ ہی آتا رہے گا۔اگر یہ سلسلہ جاری نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے دین کے خادم تباہ ہو جائیں اور ان کے دل غم سے ٹوٹ جائیں۔۔مدد غرض اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کے نشانات ہمیشہ دکھاتا چلا آیا ہے اور دکھاتا چلا جائے گا۔اور جب وہ دکھاتا ہے تو بڑے بڑے سخت دل لوگوں کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔بیسیوں نہیں سینکروں غیر احمدی ایسے ہیں جو فسادات کے بعد مجھے ملے اور نہوں نے کہا کہ ہمیں آپ کا وہ فقرہ اب تک یاد ہے کہ تم مت گھبراؤ میں دیکھ رہا ہوں کہ خدا ہماری مدد کے لیے دوڑا چلا آ رہا ہے۔جب مارشل لاء نافذ ہوا اور فوجیں لاہور میں