خطبات محمود (جلد 37) — Page 267
$1956 267 خطبات محمود جلد نمبر 37 داخل ہو گئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ آپ کی وہ پیشگوئی پوری ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کو لفظاً ہوگا لفظاً سچا ثابت کر دیا ہے۔غرض ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔وہ آدم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ نوح کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ ابراہیم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ موسق کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ عیسی کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی زندہ تھا، اور وہ آج بھی زندہ ہے۔اور اگر دنیا اور ہزار سال تک قائم رہے گی تو ہزار سال تک اور اگر ایک کروڑ سال تک قائم رہے گی تو کروڑ سال تک اور اگر ایک ارب سال تک قائم رہے گی تو ایک ارب سال تک وہ اپنی زندگی کے نشانات دکھاتا چلا جائے گا کیونکہ وہ تی وقوم خدا ہے اور وہ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ 2 کا مصداق ہے۔اُس پر جب اونگھ اور نیند بھی نہیں آتی تو اس کے زندہ نشانات کا سلسلہ کس طرح ختم ہو سکتا ہے۔جب ایسے خدا سے انسان اپنا تعلق پیدا کر لیتا ہے تو اُس کی ساری ضرورتوں کا وہ آپ کفیل ہو جاتا ہے اور ہمیشہ اس کی تائید کے لیے اپنے غیر معمولی نشانات ظاہر کرتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ اول کے پاس اکثر لوگ اپنی امانتیں رکھواتے تھے اور آپ اُس میں سے ضرورت پر خرچ کرتے رہتے تھے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس طرح رزق دیتا رہتا ہے۔بعض دفعہ ہم نے دیکھا کہ امانت رکھوانے والا آپ کے پاس آتا اور کہتا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت ہے میری امانت مجھے واپس دے دی جائے۔آپ کی طبیعت بڑی سادہ تھی اور معمولی سے معمولی کاغذ کو بھی آپ ضائع کرنا پسند نہیں فرماتے تھے۔جب کسی نے مطالبہ کرنا تو آپ نے رڈی سا کاغذ اُٹھانا اور اُسی پر اپنی بیوی کو لکھ دینا کہ امانت میں سے دوسو روپیہ بھجوا دیا جائے۔اندر سے بعض دفعہ جواب آتا کہ روپیہ تو خرچ ہو چکا ہے یا اتنے روپے ہیں اور اتنے روپوں کی کمی ہے۔آپ نے اُسے فرمانا کہ ذرا ٹھہرو ابھی روپیہ آ جاتا ہے۔اتنے میں ہم نے دیکھنا کہ کوئی شخص دھوتی باندھے ہوئے جونا گڑھ یا بمبئی کا رہنے والا چلا آ رہا ہے اور اُس نے آ کر اُتنا ہی روپیہ آپ کو پیش کر دیا ہے۔ایک دن لطیفہ ہوا کسی نے اپنا روپیہ مانگا اُس دن آپ کے پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔