خطبات محمود (جلد 37) — Page 265
$1956 265 خطبات محمود جلد نمبر 37 ایک لڑکی پروفیسر کے دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمائی کا روپیہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کی بجائے تبلیغ اسلام کے لیے بھجوا دے تو دوسری طرف ایک جرمن ڈاکٹر کے دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے کہ ہم خود اسلام کی اشاعت میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں۔آپ دیباچہ کا ترجمہ ہماری ملکی زبان میں کروا دیں تو لاکھوں لوگ احمدی ہونے کے لیے تیار ہیں۔اسی طرح جو پاکستان سے باہر احمدی رہتے ہیں اُن کے دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔آپ ہمیں حکم دیں تو ہم اپنے بیوی بچے بھی اس راہ میں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور جتنے پونڈ چاہیں گے ہم جمع کر دیں گے مگر ہم سے یہ تکلیف نہیں دیکھی جاتی کہ آپ فکر اور تشویش سے اپنی صحت کو بھی برباد کر لیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے اپنے زندہ اور قادر ہونے کا ایک نمایاں ثبوت ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہ کتنی بڑی طاقتیں رکھنے والا خدا ہے۔پھر دیکھو ایک عیسائی اخبار نے چیلنج دیا کہ تم نے عیسائیت کا مقابلہ شروع کر رکھا تھا۔اب جبکہ عیسائی پریس نے تمہارا اخبار شائع کرنے سے انکار کر دیا ہے ہم دیکھیں گے کہ تمہارا خدا تمہاری کیا مدد کرتا ہے۔ادھر اس نے یہ چیلنج دیا اور ادھر فوراً اللہ تعالیٰ نے ایک معمولی درجہ کے رئیس کے دل میں غیرت پیدا کر دی اور اس نے تیرہ ہزار اسلامی پریس کے لیے چندہ دے دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کے بڑے بھاری نشانات ہیں جن سے اُس کی ہستی کا ثبوت ملتا ہے اور اس سے پتا لگتا ہے کہ وہ جہاں چاہتا ہے لوگوں کے دلوں میں قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا کر دیتا ہے جس کے نتیجہ میں وہ ایسی ایسی قربانیوں کے لیے تیار ہو جاتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر حیرت کی آتی ہے۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ وہ سبق یاد رکھنا چاہیے جو اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں دیا گیا ہے اور اس بات کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی تعریف اسی وجہ سے ہے کہ وہ ہر زمانہ کے لوگوں کے لیے ایک زندہ خدا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو ہم اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کس طرح کہہ سکتے تھے۔اگر وہ صرف آدم کے زمانہ میں زندہ خدا تھا تو نوح کے زمانہ میں لوگ اس کی کیوں تعریف کرتے ؟ اور اگر وہ صرف نوح کے زمانہ میں زندہ خدا تھا تو ابراہیم کے زمانہ میں لوگ اس کی کیوں تعریف کرتے؟ اور اگر وہ صرف