خطبات محمود (جلد 37)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 643

خطبات محمود (جلد 37) — Page 264

$1956 264 خطبات محمود جلد نمبر 37 بھی پرے رہتے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ یہ اطلاع ملتے ہی کہ بیرونی مشنوں کو جو روپیہ بھجوایا جاتا تھا اُس میں کمی آگئی ہے میں نے اڑھائی سو پونڈ لندن بنک میں تحریک جدید کے حساب میں جمع کروا دیا ہے۔میری خواہش تھی کہ میں چھ سو پونڈ جمع کراؤں مگر سر دست فوری طور پر میں نے اڑھائی سو پونڈ بنک میں جمع کرا دیا ہے۔پھر چھٹا خط میں نے کھولا تو وہ ایک ایسے دوست کی طرف سے تھا جو پاکستان سے باہر کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ آپ اس فکر میں اپنی صحت کیوں برباد کر رہے ہیں۔ہماری جائیدادیں اور ہمارے بیوی بچے کس غرض کے لیے ہیں۔ہم ان سب کو قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔آپ پونڈوں کا فکر نہ کریں جتنے پونڈ چاہیں ہم جمع کر دیں گے اور اس بارہ میں آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔غرض اِس طرح متواتر خطوط آنے شروع ہو گئے ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے اس خطبہ کے پہنچتے ہی تمام جماعتوں میں ایک آگ سی لگ گئی ہے اور لوگ انتہائی بیتابی کے ساتھ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔اسی طرح پشاور سے ایک دوست کا خط آیا جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ خطبہ پڑھ کر مجھے سخت تکلیف ہوئی ہے۔اگر تمام احمدی کوشش کریں تو کیا وہ سات ہزار دوسو پونڈ بھی جمع نہیں کر سکتے ؟ ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کام کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہم خود اس روپیہ کو جمع کریں گے۔آپ اس بارہ میں کسی قسم کی تشویش سے کام نہ لیں۔یہ تو گل اور پرسوں کی ڈاک کا ذکر تھا۔آج ڈاک آئی اور میں نے اسے کھولا تو اس میں سے ایک شہر کی خدام الاحمدیہ کی مجلس کی طرف سے خط نکلا جس میں ذکر تھا کہ ہم نے آپ کا خطبہ تمام خدام کو پڑھ کر سنایا جس پر فوراً مقامی خدام نے دوسو روپیہ چندہ کے وعد لکھوا دیئے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یہ روپیہ وصول کر کے بہت جلد مرکز میں بھجوا دیں۔انہوں نے یہ چندہ گو ہیمبرگ کی مسجد کے لیے جمع کیا ہے مگر بہر حال وہ بھی اسی کام میں شامل ہے۔غرض دیکھو! ہمارا خدا کیسا زندہ خدا ہے کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے تھے اس کے لیے وہ سامان مہیا کر رہا اور خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کر رہا ہے۔چنانچہ ایک طرف