خطبات محمود (جلد 37) — Page 189
$1956 189 خطبات محمود جلد نمبر 37 چاہا بلند کرتی۔مگر پروٹسٹ کرنے کی بجائے ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس بھی ہمارے مبلغ پاکستانی نمائندہ کے ذریعہ ہی دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ میں نے ایک وزیر سے کہا کہ مجھے یہ نوٹس براہِ راست کیوں نہیں دیا گیا؟ تو اُس نے کہا یہ نوٹس براہ راست تمہیں اس لیے نہیں دیا گیا کہ اگر ہم تمہیں نکال دیں تو پاکستانی گورنمنٹ ہم سے خفا ہو جائے گی۔پس ہم نے کہ پاکستانی سفیر تمہیں خود یہاں سے چلے جانے کے لیے کہے تا کہ ہمارے خلاف حکومت پاکستان کو کوئی خفگی پیدا نہ ہو۔بہر حال میں نے رویا میں دیکھا کہ ان کے والد آئے ہیں اور انہوں نے میرے سامنے ایک درخواست پیش کی ہے۔اُس کا کاغذ ایسا ہے جیسے پرانے زمانہ میں عدالتوں میں استعمال ہوا کرتا تھا اور درخواست انگریزی میں لکھی ہوئی ہے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر حکومت کرم الہی ظفر کو سپین سے نکال دے تو اسے دو سال تک کسی اور جگہ رکھیں اور اس کا کام دیکھیں۔اگر اچھا ہو تو اسے رہنے دیں ورنہ اسے فارغ کر دیں۔بہر حال اتنی مدت تک دین کا کام کرنے کے بعد اسے فوراً فارغ نہ کریں۔اس پر میں نے اُس درخواست پر انگریزی میں یہ فقرہ لکھا کہ I recommend to Tahrik-i-Jadid to consider it and not to reject it out of hand یعنی میں یہ درخواست تحریک جدید کو اپنی اس سفارش کے ساتھ بھجواتا ہوں کہ وہ اس پر غور کرے۔یہ نہ ہو کہ وہ اسے فوری طور پر رڈ کر دے۔یہ رویا چونکہ ایک مبلغ کے متعلق ہے اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ اسے بیان کر دوں اور پھر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں واقعہ بھی یہی ہے کہ پاکستانی گورنمنٹ کے نمائندے کے ذریعہ ہسپانوی گورنمنٹ کی طرف سے ہمارے مبلغ کو یہ نوٹس دیا گیا ہے کہ چونکہ تم اسلامی مبلغ ہو اور ہمارے ملک کے قانون کے ماتحت کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ دوسرے کا مذہب تبدیل کرے اس لیے تم اسلام کی تبلیغ نہ کرو۔ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔شاید کوئی محبت اسلام رکھنے والا سرکاری افسر میرے اس خطبہ کو پڑھ کر اس طرف توجہ ے اور وہ اپنی ایمبیسی سے کہے کہ تم ہسپانوی گورنمنٹ کے پاس اس کے خلاف کرے