خطبات محمود (جلد 37) — Page 188
$1956 188 خطبات محمود جلد نمبر 37 بیان کرنا سلسلہ کے کارکنوں کے لیے ضروری ہے۔ہمارے ایک مبلغ کرم الہی صاحب ظفر ہیں جو سپین میں کام کر رہے ہیں۔اُن کے والد حال ہی میں فوت ہوئے ہیں۔اگر میں پہلے اُن کا جنازہ نہیں پڑھا چکا تو آج جمعہ کے بعد میں اُن کا جنازہ پڑھاؤں گا۔اللہ بخش اُن کا نام تھا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ کوئی شخص اتنے قریب عرصہ میں فوت ہوا ہو اور پھر وہ اتنی جلدی خواب میں مجھے نظر آ گیا ہو۔بہر حال میں نے رویا میں دیکھا کہ وہ مجھے ملنے آئے ہیں اور انہوں نے میرے سامنے انگریزی میں ایک درخواست پیش کی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کرم الہی ظفر کو وہاں کی گورنمنٹ نکال دے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ کرم الہی ظفر کو گورنمنٹ کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں ہے۔چونکہ تم لوگوں کو اسلام میں داخل کرتے ہو جو ہمارے ملک کے قانون کی خلاف ورزی ہے اس لیے تمہیں وارننگ دی جاتی ہے کہ تم اس قسم کی قانون شکنی نہ کرو ورنہ ہم مجبور ہوں گے کہ تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں۔ہمارا ملک اسلامی ملک کہلاتا ہے لیکن یہاں عیسائی پادری دھڑنے سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں اور کوئی انہیں عیسائیت کی تبلیغ سے نہیں روکتا۔لیکن وہاں ایک مبلغ کو اسلام کی تبلیغ سے روکا جاتا ہے اور ی پھر بھی ہماری حکومت اُس کے خلاف کوئی پروٹسٹ نہیں کرتی۔وہ کہتے ہیں میں نے پاکستان کے ایمبیسیڈر (AMBASSADOR) سے کہا کہ تمہیں تو ہسپانوی حکومت سے لڑنا چاہیے تھا اور کہنا چاہیے تھا کہ تم اسلامی مبلغ پر کیوں پابندی عائد کرتے ہو جبکہ حکومتِ پاکستان نے اپنے کی ملک میں عیسائی پادریوں کو تبلیغ کی اجازت دے رکھی ہے اور وہ ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کرتی۔اُس نے کہا یہ تو درست ہے مگر سپین کی وزارتِ خارجہ کا سیکرٹری یہ کہتا تھا کہ تم پنے ملک میں لوگوں کو جو بھی آزادی دینا چاہتے ہو بیشک دو ہمارے ملک کی کانسٹی ٹیوشن اس سے مختلف ہے اور ہمارے ملک کا یہی قانون ہے کہ یہاں کسی کو اسلام کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔بہر حال یہ ایک افسوس کا مقام ہے کہ ہماری حکومت دوسری حکومتوں سے اتنا ڈرتی ہے کہ وہ اسلام کی حمایت بھی نہیں کر سکتی حالانکہ اس کا فرض تھا کہ جب ایک اسلامی مبلغ کو ہسپانوی حکومت نے یہ نوٹس دیا تھا تو وہ فوراً پروٹسٹ کرتی اور اُس کے خلاف اپنی آواز