خطبات محمود (جلد 36) — Page 191
$1955 191 خطبات محمود جلد نمبر 36 گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔لیکن اگر ہمیں یہ نظر آئے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے بعض افراد دنیا کی طرف متوجہ ہو گئے ہیں تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔آخر دین کو نظر انداز کر کے دنیا کے پیچھے لگ جانا کونسی عقلمندی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو ہمارے لیے ایک طیب غذا لے کر آئے تھے۔لیکن آپ کی اپنی نسل میں سے کچھ لوگ اس روحانی غذا کو چھوڑ کر مادی لذائذ کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔اگر دنیا کمانا ہی ضروری ہے تو جس شخص کو یہاں آٹھ نوسوروپے ماہوارمل رہا ہے وہ اگر امریکہ چلا جائے تو اُسے وہاں اڑھائی تین ہزار ماہوار مل سکتا ہے۔لیکن اگر یہاں رہ کر اُسے دو اڑھائی سور و پیہ ماہوار بھی ملتا تو کم از کم وہ روحانی طور پر اپنے دادا کا پوتا تو ہوتا مگر اب تو وہ آپ کی روحانی نسل سے منقطع ہو گیا ہے۔اور جو بھی خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لیے اپنی زندگی وقف نہیں کرے گا وہ آپ کی نسل میں سے ہوتے ہوئے بھی روحانی طور پر آپ کی طرف منسوب نہیں ہو سکے گا۔اسی طرح میں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ تم ربوہ کو آباد کرنے کی کوشش کرو۔اس وقت ہمارے سامنے دو کام ہیں۔اگر ایک طرف ہم نے ربوہ کو آباد کرنا ہے تو دوسری طرف ہم نے قادیان کو آباد کرنا ہے۔میں نے اپنے ایک لڑکے کو قادیان میں چھوڑا تھا اور اس نے بہت اخلاص بھی دکھایا۔جب دوسرے لوگ قادیان سے بھاگ آئے تو وہ وہیں رہا۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ اس میں ایسی ہمت نہیں کہ وہ فاقہ میں رہ کر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہو۔اگر وہ فاقہ میں رہ کر کام کرنے کے لیے تیار ہوتا تو روزی کمانے کی کوئی صورت نکال لیتا تو میں سمجھتا کام چلتا چلا جائے گا۔لیکن مجھے دونوں چیزیں نظر نہیں آتیں۔نہ مجھے یہ نظر آتا ہے کہ وہ فاقہ میں رہ سکتا ہے اور نہ وہ اپنی آمد پیدا کرنے کی کوئی کوشش کر رہا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر کسی وقت بھی اُسے اخراجات کے لیے روپیہ نہ ملے تو اُس کا وہاں قیام مشکل ہو جائے گا۔حالانکہ ہم نے اُسے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرح وہاں اس لیے رکھا ہے تا کہ وہ قادیان کو آباد کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیاں اُس کے ذریعہ پوری ہوں۔ہم جور بوہ کو آباد کر رہے ہیں ہمارا یہ کام ظلی ہے۔حقیقی کام اُسی کا ہے بشرطیکہ وہ سلسلہ کی خدمت کرتے ہوئے ہرمش مشکل برداشت کرنے کے لیے تیار ہو۔