خطبات محمود (جلد 36) — Page 190
$1955 190 خطبات محمود جلد نمبر 36 صرف پاکستانی نہ رہے۔دینی لحاظ سے بے شک پاکستان کے لوگ دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں۔لیکن اگر ان کے ساتھ ایک ایک ممبر نائجیریا، گولڈ کوسٹ ، امریکہ، مشرقی افریقہ، ہالینڈ ، جرمنی اور انگلینڈ وغیرہ ممالک کا بھی ہو تو کام زیادہ بہتر رنگ میں چل سکتا ہے۔جب یہ لوگ یہاں آکر کام کریں گے تو باہر کی جماعتوں کو اِس طرف زیادہ توجہ ہوگی اور وہ سمجھیں گی کہ مرکز میں جو انجمن کام کر رہی ہے وہ صرف پاکستان کی جماعتوں کی انجمن نہیں بلکہ ہماری بھی انجمن ہے۔پس چندوں کو زیادہ کرو اور ان طوفانوں سے مایوس نہ ہو بلکہ پہلوانوں کی طرح کام میں لگ جاؤ۔اور جہاں جہاں پانی خشک ہوتا ہے وہاں فوراً کھیتوں میں ہل چلا دو تا تمہاری آئندہ آمد نیں پہلے سے بھی بڑھ جائیں اور اس کے ساتھ ساتھ چندے بھی بڑھ جائیں۔جب مرکز مضبوط ہوگا اور بیرونی مبلغین کو بھی خدا تعالیٰ اس بات کی توفیق دے دے گا کہ وہ نو مسلموں سے چندے لیں تو سلسلہ تبلیغ وسیع ہو جائے گا۔جب بھی دنیا میں کوئی مذہبی تحریک چلی ہے اُس کے ابتدائی مبلغ اُسی ملک کے ہوتے ہیں جس میں وہ تحریک ابتداء شروع ہوتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو اسلام کے پہلے مبلغ عرب ہی تھے۔لیکن اس کے بعد ایرانی اور عراقی آگئے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت شروع کی۔حضرت معین الدین چشتی ، شہاب الدین صاحب سہروردی ، بہاؤ الدین صاحب نقشبندی سب دوسرے ممالک کے تھے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں اسلام کی بڑی خدمت کی ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد بھی پچاس ساٹھ سال تک عیسائیت کو پھیلانے والے اُن کے اپنے علاقہ کے ہی مبلغ تھے۔لیکن بعد میں اور علاقوں میں بھی مبلغ پیدا ہو گئے۔اور آپ کے سو سال کے بعد تو سارے مبلغ اٹلی کے ہی تھے۔پھر جرمنی اور انگلینڈ سے بھی کئی مبلغین اشاعت عیسائیت کے لیے آگے آگئے۔پس جب تک مبلغین نو مسلموں کو چندہ دینے اور وقف کرنے کی عادت نہیں ڈالیں گے یہ کام لمبے عرصہ تک نہیں چل سکتا۔جو کام ہمارے سپرد ہے اُس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر بتایا ہے کہ تین سو سال کے اندر اندر مکمل ہو جائے گا۔لیکن ایسا تبھی ہو سکتا ہے جب ہم اولاد در اولاد کو وقف کریں اور اولاد در اولادکو اسلام کی اشاعت کا فرض یاد دلاتے جائیں۔اگر یہ روح ہمارے اندر پیدا ہو جائے تو ہمارے لئے