خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 192

خطبات محمود جلد نمبر 36 192 $1955 میں جماعت کو ایک یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ پرانے زمانہ میں تنخواہ دار مبلغ نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگ خود ان کی ضروریات کا فکر رکھتے تھے۔اس زمانہ میں ہمارے سب مبلغ تنخواہ دار ہیں۔لیکن صرف تنخواہ دار مبلغوں کے ذریعہ تبلیغ کو ساری دنیا میں وسیع نہیں کیا جاسکتا۔ساری دنیا میں تبلیغ اسی صورت میں وسیع ہوسکتی ہے جب جماعت خود ان کا خیال رکھے۔عیسائی اب تک اپنے پادریوں کی خدمت کرتے چلے آتے ہیں۔آپ لوگوں کا بھی فرض ہے کہ ان کی خدمت کریں۔میں سمجھتا ہوں اگر ہر کمانے والا احمدی ربوہ میں رہنے والے کارکنوں یا باہر کام کرنے والے مبلغوں کے لیے اپنی آمد کا ایک فیصدی بھی ریز رو کر دے تو ہر سواحمدی ربوہ میں بسنے والے ایک کارکن یا با ہر کام کرنے والے ایک مبلغ کا گزارہ چلا سکتے ہیں۔اور پھر جوں جوں جماعت بڑھتی چلی جائے گی بوجھ اٹھانے والے بھی زیادہ ہوتے جائیں گے اور اس طرح زیادہ کارکنوں کا بوجھ اٹھایا جا سکے گا۔اگر ایک لاکھ احمدی کمانے والے ہوں تو ایک ہزار مبلغوں اور کارکنوں کا گزارہ چلا یا جا سکتا ہے۔پرانے زمانہ میں لوگ اسی طرح کرتے تھے۔اور وہ سمجھتے تھے ہم ان کی خدمت کریں گے تو خدا تعالیٰ ہماری آمد میں برکت پیدا کرے گا اور ہماری مشکلات کو دور کرے گا۔اگر جماعت کے دوست اس طرف توجہ کریں تو ہماری تمام مشکلیں دور ہوسکتی ہیں۔مثلاً ایک لاکھ کمانے والے ہوں تو ایک ہزار مبلغ کا گزارہ چل سکتا ہے۔اور لاکھ سے تو اب بھی ہماری جماعت کے دوست بہت زیادہ ہیں۔اگر دس لاکھ احمدی ہوں تو دس ہزار مبلغوں اور کارکنوں کا گزارہ چل سکتا ہے۔بشرطیکہ ہر کمانے والا 99 فیصدی آمد اپنے گزارے اور چندوں کے لیے رکھے اور ایک فیصدی سلسلہ کے کارکنوں اور مبلغوں کے لیے ریز رو کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر ایسے لوگوں کا نام اصحاب الصفہ رکھا ہے 5۔یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر ڈال دیا۔ایسے لوگوں کی خدمت خود اپنی ذات میں بہت بڑے ثواب کا موجب ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے چونکہ میں بیمار ہوں اس لیے بعض دفعہ کوئی غریب بیوہ عورت ایک چوزہ ہی لے آتی ہے اور کہتی ہے حضور ! اسے قبول فرما ئیں اور وہ اس خدمت سے خوشی محسوس کرتی ہے۔اسی طرح اگر جماعت کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے کہ اُن کے اموال میں دین کی خاطر اپنی زندگیاں وقف