خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 58

$1955 58 خطبات محمود جلد نمبر 36 توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی کوتاہیوں اور سستیوں کو دور کرے۔اور ان چند دنوں میں جو باقی رہ گئے ہیں وعدوں کی موجودہ کمی کو دور کرے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ میں نے وکلا ء کو اپنے پاس بلایا اور اپنے سامنے بٹھا کر کہا کہ تم جماعت وار وعدے چیک کرو اور وکالت مال سے روزانہ کام کی رپورٹ لو۔پھر اختر صاحب کو بلا کر کہا کہ دفتر کے کام میں فلاں نقص ہے۔ان سے وہ نقص دور کراؤ اور مجھے سُست جماعتوں کی لسٹ بھجواؤ۔لیکن وہ ہر دفعہ جی حضور ! یہی کرتے رہے ہیں۔اور ابھی تک ان جماعتوں کی لسٹ پیش نہیں کی۔یہ ایک حسابی کمزوری تھی۔کوئی اخلاقی کمزوری نہیں تھی جس کے دور کرنے میں دقت پیش آتی۔صرف حساب کی بات ہے۔کاپی پر پچھلے سالوں کے وعدے بھی لکھے ہیں اور اس سال جو وعدے آئے ہیں وہ بھی لکھے ہیں۔ان کا مقابلہ کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ ایک جماعت کا پچھلے سال اتنا وعدہ تھا اور اس سال اتنا وعدہ ہے یا اس سال اُس نے اپنے وعدے نہیں بھجوائے پھر بجائے اس کے کہ الفضل میں میرے خطبات کے حوالے شائع کئے جائیں کیوں نہ ان 25 یا 30 جماعتوں پر زور دیا۔جائے کہ وہ اپنے نقص کو دور کریں۔ساری جماعتوں کو کیوں بدنام کیا جائے۔بہر حال اس وقت تک جو وعدے آئے ہیں وہ قریباً 2/3 ہیں۔اس سے پتا لگتا ہے کہ 2/3 جماعتوں نے اپنی ذمہ داری کو پوری طرح ادا کیا ہے۔پھر ان 2/3 جماعتوں کو کیوں بدنام کیا جائے۔باقی 1/3 جماعتوں پر کیوں زور نہ دیا جائے۔بلکہ ان 1/3 جماعتوں میں سے بھی بعض جماعتوں نے وعدے بھیج دیئے ہوں گے یا ان کے وعدے آنیوالے ہوں گے۔بہر حال جن جماعتوں نے وعدے نہیں بھجوائے۔اُن سے کہو کہ یا وعدے بھجوا دیا جواب دو یا تم اپنا انسپکٹر وہاں بھیج کر اُن سے وعدے لیتے۔لیکن تم ہر دفعہ جی حضور ! کہہ کر چلے جاتے ہو۔وکالت مال میں جو نیا عملہ لگا ہے وہ ایسا غیر مبارک ثابت ہوا ہے کہ وہ جی حضور ! اسے آگے نہیں جاتا۔ویسے وہ مخلص ہیں لیکن ان میں کام کرنے کی قابلیت نہیں۔جی حضور! پر بات ختم کر دیتے ہیں۔حالانکہ بجائے اس کے کہ وہ ساری جماعتوں کو مخاطب کریں انہیں صرف ان جماعتوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے تھی جنہوں نے اس وقت تک سستی سے کام لیا ہے۔ساری جماعت کو مخاطب کرنا اُسے سُست کر دیتا ہے۔ایک شخص نہ صرف روزانہ پانچ نمازیں پڑھتا ہے بلکہ روزانہ نماز تہجد بھی ادا کرتا ہے۔اسے اگر یہ کہا جائے کہ تم پانچ وقت