خطبات محمود (جلد 36) — Page 59
$1955 59 خطبات محمود جلد نمبر 36 نماز پڑھا کروتو یہ کتنی بے وقوفی کی بات ہے۔وہ تو پانچ نمازوں کے علاوہ تہجد بھی ادا کر رہا ہے۔تم اُن لوگوں کے پاس جاؤ جو نماز نہیں پڑھتے۔اسی طرح الفضل میں نوٹس شائع کرنے کے یہ معنے ہیں کہ ساری جماعت نے وعدے بھجوانے میں ستی سے کام لیا ہے۔حالانکہ ایسا کہنا درست نہیں۔اکثر جماعتوں نے اخلاص کا پورا نمونہ دکھایا ہے۔الفضل میں اس قسم کے مضامین پڑھ کے ہر ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ میرے سوا باقی سب سست ہیں۔مثلاً کراچی والے اخبار پڑھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کراچی والوں نے تو وعدے بھجوا دیئے ہیں اس کا ہمیں علم ہے معلوم ہوتا ہے باقی سب جماعتیں بددیانت ہیں لاہور والے سمجھتے ہیں کہ ہماری جماعت کے وعدے تو مرکز میں جا چکے ہیں۔اور اس کا ہمیں علم ہے معلوم ہوتا ہے باقی سب جماعتیں بددیانت ہیں۔راولپنڈی والے احمدی اخبار پڑھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں ہمارے وعدے تو جاچکے ہیں اور اس کا ہمیں علم ہے۔معلوم ہوتا ہے ہماری جماعت کے سوا باقی سب جماعتیں بددیانت ہیں۔گویا بجائے اس کے کہ ان مضامین سے کوئی فائدہ ہو لوگوں کے ایمان میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔میں نے کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ تم واقعات نکال کر توجہ دلایا کرو ساری جماعت کو بدنام نہ کیا کرو۔جب کوئی بات کرو اس بات کی وضاحت کر دیا کرو کہ فلاں فلاں جماعت نے اِس کام میں سستی دکھائی ہے۔مثلاً اب میں جماعت کی سستی کا ذکر کر رہا ہوں۔تو میں یہ بھی واضح کر رہا ہوں کہ 2/3 جماعت اپنے وعدے بھیج چکی ہے۔بلکہ باقی 1/3 میں بھی کچھ کمی ہو جائے گی۔بعض جماعتوں کے وعدے بھجوائے جاچکے ہوں گے اور بعض کے وعدے چند دن کی باقی ماندہ مدت میں آجائیں گے۔پھر میں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ساری کی ذمہ داری جماعت پر ہی نہیں کچھ ذمہ داری دفتر پر بھی ہے۔میں نے دفتر والوں کو اُن کے اس نقص کی طرف بار ہا توجہ دلائی ہے لیکن انہوں نے اپنے نقص کو دور نہیں کیا۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ جماعت کا صرف ساتواں یا آٹھواں حصہ ایسا ہے جس نے اس بارہ میں سستی سے کام لیا ہے۔اب یہ نہیں ہو گا کہ کراچی والے کہیں کہ ہمارے سوا باقی سب بے ایمان ہو چکے ہیں۔راولپنڈی والے کہیں کہ ہمارے سوا باقی سب بے ایمان ہو چکے ہیں۔یا حیدر آباد والے کہیں کہ ہمارے سوا باقی سب بے ایمان ہو چکے ہیں۔لیکن وکالت مال کے اعلانات سے ہر جماعت یہی سمجھتی ہے کہ اُس