خطبات محمود (جلد 36) — Page 45
$1955 45 خطبات محمود جلد نمبر 36 پاس جا کر خود اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ وہ فریب میں آکر اُس کی سکھائی ہوئی باتیں کہنے لگتے ہیں۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس افسر کی ہماری جماعت کے سیکرٹری کے پاس جانے کی غرض ہی یہی تھی کہ وہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ اس اطلاع میں سچائی ہے یا نہیں۔اُس کا خیال تھا کہ اگر یہ اطلاع سچی ہے تو ہمدردی کے جذبات کے نتیجہ میں وہ ساری بات ظاہر کر دے گا۔وہ یا تو یہ کہہ دے گا کہ آپ بے فکر رہیے ہم دشمن کے مقابلہ کے لئے خوب تیاری کر رہے ہیں۔اور یا وہ یہ کہے گا کہ تیاری تو ہم کر رہے ہیں لیکن ہمارے پاس مناسب ٹرینینگ کا انتظام نہیں اور نہ ہی سامان ہیں۔اس لئے اگر آپ ہماری مدد کر سکتے ہیں تو کریں تا کہ وقت پر ہم اپنی حفاظت کا انتظام کر سکیں۔پس ایک نتیجہ تو اس سے یہ نکلتا ہے کہ اس سی آئی ڈی کے آدمی کی غرض یہ تھی کہ وہ تحقیقات کر کے رپورٹ کرے کہ بالا افسروں کے پاس جو اطلاع پہنچی ہے وہ صحیح ہے یا نہیں۔دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک غیر معروف جگہ پر جا کر جو جماعت احمدیہ کا کوئی مرکز نہیں اور وہ سلسلہ کے مرکز سے سینکڑوں میل دور ہے کسی افسر کا جماعت کے ایک سیکرٹری سے یہ باتیں کہنا بتا تا ہے کہ یہ کوئی مقامی بات نہیں تھی بلکہ مرکزی حکومت کو جماعت احمدیہ کے خلاف کوئی رپورٹ پہنچی ہے اور اس نے مختلف اضلاع کو حکم دیا ہے کہ وہ تحقیقات کر کے رپورٹ کریں۔اور یہ اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔کسی جگہ پولیس افسروں نے اپنے جاسوس چھوڑے ہوں گے، کسی جگہ پر وہ نوکروں کے ذریعہ اس قسم کی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے اور کسی جگہ محلہ اور ساتھ والے گاؤں کے لوگوں سے اس قسم کی اطلاع حاصل کر رہے ہوں گے۔یہ شخص اخلاق کو زیادہ مؤثر سمجھتا تھا اس لئے اُس نے جماعت کے ایک سیکرٹری سے مل کر ہمدردی کا جذ بہ ظاہر کیا اور اُس سے اصل بات پوچھنے کی کوشش کی۔لیکن سیکرٹری نے کہا ہمیں تو اس قسم کی باتوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہمارے ذہن میں کوئی ایسی سکیم ہے۔اور اس کے نتیجہ میں بات ہم تک بھی پہنچ گئی۔بہر حال وہ بات جھوٹی تھی اور جس نے بھی جماعت کے متعلق اس قسم کی کوئی رپورٹ کی ہے جھوٹی رپورٹ کی ہے۔لیکن پھر بھی میں نے یہ خیال کیا کہ ممکن ہے نو جوانوں میں سے بعض