خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 46

$1955 46 خطبات محمود جلد نمبر 36 نے اس قسم کی کوئی غلطی کی ہو۔اس لئے میں نے ناظر صاحب اعلیٰ اور ناظر صاحب امور عامہ کو بلایا۔اسی طرح کالج کے پرنسپل اور نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ کو بھی بلایا۔گو مجلس کا صدر میں خود ہوں لیکن سارے کام نائب صدر ہی کرتا ہے میرے سامنے وہ بجٹ پیش کر دیتے ہیں اور میں منظور کر دیتا ہوں۔میں صدر صرف اس لیے بنا ہوں کہ جب کبھی میں مجلس کے کاموں میں دخل دینا چاہوں تو دخل دے سکوں اور میرا یہ دخل دینا قانونی ہو۔ویسے سارے کام نائب صدر تک ہی ختم ہو جاتے ہیں۔) ناظر صاحب اعلیٰ اور ناظر صاحب امور عامہ کو اس لئے بلایا کہ وہ نگران ہیں۔لیکن انہوں نے اس واقعہ سے قطعی طور پر انکار کیا اور کہا کہ ہم نے اس قسم کی کوئی تحریک نہیں کی کالج کے پرنسپل نے کہا کہ ہم صرف یونیورسٹی کی مقرر کردہ پریڈ کرتے ہیں۔اور وہ پریڈ یونیورسٹی کے حکم کے مطابق ہے ہم نے اسے اپنے طور پر جاری نہیں کیا۔اور خدام کے نائب صدر نے کہا کہ ہم نے اس قسم کی ٹریننگ کا نہ تحریراً حکم دیا ہے اور نہ زبانی حکم دیا ہے۔اس پر مجھے تسلی ہوگئی کہ اس رپورٹ میں کوئی صداقت نہیں۔کسی دشمن نے حکومت کے پاس جھوٹی رپورٹ کر دی ہے۔آگے حکومت نے جو تحقیق کی ہے۔جہاں تک حفاظت اور قیام امن کا سوال ہے یہ فعل درست ہے۔حکومت کا فرض ہے کہ ملک میں امن و امان قائم کرے۔اگر وہ ملک میں امن و امان قائم نہیں کرتی تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتی۔وہ اس قسم کی رپورٹوں کی تحقیقات کرتی ہے اور اس تحقیقات کے نتیجہ میں فیصلہ کرتی ہے کہ آئندہ کیا قدم اٹھائے۔اگر ہماری جماعت کا بھی کوئی افسر اس کام پر مامور ہوتا تو وہ بھی اس رپورٹ کی تحقیقات کرتا۔کیونکہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ جب کوئی رپورٹ تمہارے پاس آئے تو تم اس کی تحقیقات کروا۔لیکن اس خط سے ہمیں یہ پتا لگ گیا کہ دشمن نے جماعت کے خلاف حکومت کے پاس بعض سراسر جھوٹی رپورٹیں کی ہیں۔( اور ہم اس کے لئے لَعْنَتُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کہتے ہیں اور پھر یہ بھی پتا لگ گیا کہ اس قسم کی کوئی قابلِ اعتراض حرکت نہ خدام سے سرزد ہوئی ہے اور نہ کالج کے افسران سے۔اگر اُن سے اس قسم کی کوئی قابلِ اعتراض حرکت ہوتی تو ہم سمجھتے کہ رپورٹ کرنے والے کو دھو کا لگ گیا ہے۔اور چھوٹی بات بڑی بن کر اُس کے پاس پہنچی ہے۔لیکن وہ دونوں صیغے کہتے ہیں کہ ہم سے ایسی کوئی حرکت سرزد نہیں ہوئی۔