خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 298

$1955 298 خطبات محمود جلد نمبر 36 منزلوں سے نیچے گرنے کے مشابہہ ہے۔اور پھر جس طرح رؤیا میں دکھایا گیا تھا کہ وہ بچہ بیچ گیا اسی طرح میں بھی بچ گیا۔یہ رویا بہت لمبی ہے۔اس کا صرف ایک حصہ میں نے دوستوں کے سامنے بیان کر دیا ہے۔اب ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں کہ تم اپنے دل کو یقین دلاؤ کہ تم بیمار نہیں ہو اور میں اُن سے کہتا ہوں کہ میں اپنے دل کو کیسے یقین دلاؤں۔تمہارے پاس وہ کونسی دوا ہے جو میرے دل کو طاقت دے اور میں اُسے یقین دلا سکوں کہ میں اب بالکل ٹھیک ہوں۔ہاں میرے خدا کے پاس میری دوا موجود ہے۔وہ اگر نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلى قلبك ـ والی کیفیت پیدا کر دے تو پھر کوئی گھبراہٹ باقی نہیں رہتی۔پھر خدا تعالیٰ کے فرشتے آپ ہی سارا کام کر دیں گے اور یہی اصل چیز ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے دل پر نازل ہوں اور وہ اس کی اصلاح کر دیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک دفعہ اپنے اوپر زور دے کر یہ یقین کر لیں کہ مجھے صحت ہوگئی ہے تو آپ کو مکمل صحت ہو جائے گی۔وہ کہتے ہیں کہ جہاں تک جسمانی صحت کا سوال ہے آپ بالکل تندرست ہیں۔صرف اتنی کسر باقی ہے کہ آپ کو اپنی صحت کے متعلق یقین نہیں۔اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ بالکل تندرست تھے کہ آپ یکدم بیمار ہو گئے جس کی وجہ سے آپ کو شدید صدمہ پہنچا ہے اس صدمہ کی وجہ سے آپ گھبرائے ہوئے ہیں۔اگر آپ کسی وقت اپنے اوپر دباؤ ڈال کر یہ یقین کرلیں کہ آپ کو مکمل صحت ہو گئی ہے تو آپ بالکل ٹھیک ہو جائیں گے۔مگر سوال یہ ہے کہ میں اپنے آپ پر دباؤ کیسے ڈالوں؟ یہ تو اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فرشتے میرے دل پر نازل ہوں اور وہ اس کی اصلاح کر دیں اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔نہ یہ طبیبوں کے اختیار میں ہے اور نہ میرے اختیار میں ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی دفعہ بتایا ہے مجھ پر کئی ایسے وقت بھی آتے ہیں جب ٹہلتے ٹہلتے یا بیٹھے بیٹھے میں یوں محسوس کرتا ہوں کہ اب میں بالکل تندرست ہوں۔اور سمجھ میں نہیں آتا کہ پہلے جو دماغ پر بوجھ تھاوہ اب کہاں گیا ہے۔اور میں سوچتا ہوں کہ میں تو بیمار تھا اب کیا ہو گیا ہے کہ میں اچھا بھلا ہو گیا ہوں۔مگر دوسرے وقت جب بیماری کا حملہ ہوتا ہے تو میں سمجھ نہیں سکتا کہ مجھے پر جوا چھا ہونے کا وقت آیا تھا وہ کیسے آیا تھا۔بہر حال جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے مجھے ایک