خطبات محمود (جلد 36) — Page 297
$1955 297 خطبات محمود جلد نمبر 36 بھی منکر تو کہلائے گا لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ قابل مواخذہ نہیں ہوگا۔پھر منکر وہ شخص بھی ہوگا کی کہ جس پر حجت پوری ہو گئی ہے اور وہ عقل بھی رکھتا ہے اور پھر وہ خدا تعالیٰ کی بات کا بعد انکار کرتا ہے۔ایسا شخص قابل مواخذہ ہے۔بہر حال انکار کرنے والوں میں تو وہ سب جمع ہوں گے لیکن سزا اور جزا کے نیچے یہ سب جمع نہیں۔بلکہ ہر ایک کا درجہ اور اُس کی جزا وسزا الگ الگ ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی باتیں پوری ہوتی رہتی ہیں۔لیکن انسان کو ہمیشہ یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ! تو ہمیں نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْاَمِيْنُ عَلَى قَلْبِكَ والا نظارہ دکھا۔اور جو خبر بھی ہمیں دے گووہ ہمارے درجہ کے ہی مطابق ہومگر تو محمد رسول اللہ ﷺ کے طفیل اُسے ہمارے دلوں پر بھی نازل کر، تا ہمیں تیرے کلام پر یقین پیدا ہو جائے اور ہم کبھی بھی تیری کسی بات پر شبہ نہ کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جن دنوں گورداسپور میں کرم دین کی طرف سے مقدمہ دائر تھا ایک دن کسی شخص نے آپ کو خبر دی کہ آریوں نے مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ تم نے مرزا صاحب کو ضرور سزا دینی ہے۔ورنہ تمہاری قوم تم سے ناراض ہو جائے گی۔اور اُس نے ان سے وعدہ کر لیا ہے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام لیٹے ہوئے تھے۔آپ یہ خبر سنتے ہی اٹھ بیٹھے اور فرمایا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈالنے والا کون ہوتا ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔کرم دین کو اس مقدمہ میں سزا ہوگئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بری ہو گئے۔صلى الله پس خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر وحی تو نازل کرتا ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں وہ ہمارے قلب پر بھی وحی نازل کرے تا کہ ہمیں اُس پر اس قدر یقین ہو جائے کہ کسی قسم کا تر ڈد باقی نہ رہے۔جب یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو انسان کو کامل سکون اور اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔مثلاً میری صحت کے متعلق بعض دوسرے دوستوں نے بھی خوا ہیں دیکھی ہیں اور مجھے بھی ایک نظارہ دکھایا گیا ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے گا۔مثلاً میں نے رویا میں دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی بچہ کئی منزلوں سے نیچے گرا ہے مگر پھر بھی وہ بچ گیا ہے۔اب کئی منزلوں سے نیچے گرنا یہی مفہوم رکھتا ہے کہ میں اچھی بھلی صحت کی حالت میں تھا کہ یکدم بیمار ہو گیا۔ایک منٹ پہلے میری اس بیماری کا کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا تھا۔میں ٹہلتے ٹہلتے قرآن کریم پڑھ رہا تھا کہ یکدم بیمار ہو گیا۔پس میری یہ بیماری کئی