خطبات محمود (جلد 36) — Page 8
خطبات محمود جلد نمبر 36 8 $1955 ماں باپ کی طرف سے بھی کوئی رشتہ دار احمدی نہیں ؟ اس نے کہا میرے بھائی احمدی ہیں۔میں نے کہا پھر تم میرے پاس کیوں آئی ہو۔مجھے تو تمہاری موت کا پتا نہیں لگ سکتا۔تم اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ اور اُن سے کہو کہ مرنے کے بعد میری نعش یہاں لے آنا۔اب دیکھو اتنا لمبا عرصہ ساتھ رہنے کے باوجود اس عورت کا خاوند احمدی نہیں ہوا تھا۔ویسے یہ اس عورت کے ایمان کا کمال تھا کہ وہ اتنے لمبے عرصہ سے احمدیت پر قائم رہی۔آخر اس کا خاوند اس کی مخالفت کرتا ہوگا۔لیکن اس عورت میں فعال کی صفت نہیں تھی۔اور خدا تعالیٰ فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ 4 بھی ہے۔اور جب خدا تعالیٰ فَعَالُ لِمَا يُرِيدُ ہے تو یہ صفت اس کے بندوں کے اندر بھی ہونی چاہیے۔لیکن وہ عورت فعال نہیں تھی۔اس کی شادی پر چالیس سال گزر چکے تھے لیکن نہ وہ اپنے خاوند کو ا احمدی کر سکی اور نہ اُس کا خاوند اُسے اپنی طرف لے جا سکا تھا۔وہ دونوں ایک ہی ٹائپ کے تھے۔لیکن بہر حال ہمیں اپنے آدمی کے متعلق افسوس ہے کہ وہ دوسرے پر کوئی اثر نہ ڈال سکا۔پس تم یہ ارادہ کر لو کہ تم اس سال میں ہر جگہ شور مچاؤ گے کہ عمل کر وہ عمل کر وہ عمل کرو۔اور یہ خیال دل سے نکال دو گے کہ تمہارے کاموں کا خراب نتیجہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نکلتا ہے۔اگر تم سچی محنت کرو گے تو لازمی طور پر اس کا اعلی نتیجہ نکلے گا۔اگر تمہارے کسی کام کا بُرا نتیجہ نکلتا ہے تو اس کا موجب تم خود ہو۔خدا تعالیٰ بناتا ہے تم ضائع کرتے ہو۔وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ بیماری تم خود لاتے ہو شفا خدا تعالیٰ دیتا ہے۔پس جب بھی کوئی کام ٹوٹے گا تمہاری طرف - ٹوٹے گا۔اور جب بھی کوئی کام بنے گا تو وہ خدا تعالیٰ بنائے گا۔اگر تم یہ نکتہ سمجھ لو تو تمہاری حالت بدل جائے گی۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ! مجھ میں تین بُری عادتیں ہیں جن کو ترک کرنے کی میں اپنے اندر طاقت نہیں پاتا۔آپ کوئی ایسا طریق بتائیں جس کے اختیار کرنے سے میں ان بُری عادات سے چھٹکارا حاصل کرسکوں۔ان تین بُری عادات میں سے ایک جھوٹ بھی تھا۔آپ نے فرمایا تم میری ایک بات مان لو دو کا میں ذمہ لیتا ہوں۔تم ایک عیب چھوڑ دو یعنی جھوٹ بولنا۔اس نے کہا بہت اچھا اور چلا گیا۔کچھ مدت کے بعد وہ شخص دوبارہ آیا۔آپ نے دریافت فرمایا اب تمہارا کیا حال ہے؟ اُس نے کہا