خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 295 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 295

خطبات محمود جلد نمبر 36 295 $1955 لیے بھی وہی قانون جاری ہے جو شرعی وحی کے لیے ہے اور اس کی بھی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عام وحی کی بھی ایک قسم کی حفاظت ہوتی ہے۔مثلاً اگر یہ وحی ہو کہ فلاں دشمن مر جائے گا یا طاعون آجائے گی تو اس وحی کی بھی ایک قسم کی حفاظت ہوتی ہے۔کیونکہ اگر وہ اخبار غیبیہ جن پر خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ کو اطلاع دیتا ہے ساری کی ساری بھول جائیں تو وہ لوگوں کو سنائی کیسے جاسکیں۔لیکن بہر حال اسے وہ مقام حاصل نہیں ہوتا جو تشریعی وحی کو حاصل ہوتا ہے کہ اس کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک شوشہ کی حفاظت ہوتی ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض جگہوں پر تحریر فرمایا ہے کہ مجھ پر ایک وحی نازل ہوئی تھی جس کے الفاظ تو بھول گئے ہیں لیکن اُس کا مفہوم یہ تھا۔پھر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وحی کا ایک حصہ یا درہتا ہے اور دوسرا بھول جاتا ہے۔اس کی مثالیں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں ملتی ہیں۔بہر حال ھر سخنے وقتے و هر نکته مقامی دارد “ ہر بات اور ہر نکتہ " کا ایک وقت اور مقام ہوتا ہے۔لوگ عام طور پر نبی کے لفظ پر چڑتے ہیں۔حالانکہ انبیاء بھی کئی درجوں کے ہوتے ہیں۔جس کو خدا تعالیٰ نبی کہہ دیتا ہے وہ نبی تو ہوتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ سارے نبی ایک ہی مقام کے ہوں۔محمد رسول اللہ یہ بھی نبی ہیں اور عیسی اور موسیٰ علیھما السلام بھی نبی تھے۔مگر گجا محمد رسول اللہ ہے اور گجا موسیٰ اور عیسی علیھما السلام۔ان سب کا الگ الگ مقام اور درجہ ہے۔پس نبی ، نبی میں بھی فرق ہے۔اسی طرح مومن، مومن میں بھی فرق ہے۔حضرت ابو بکر بھی مومن تھے اور وہ چھوٹے سے چھوٹے صحابی بھی مومن تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ والسلام کی آخری عمر میں آپ پر ایمان لائے۔وہ تابعی بھی مومن تھے جو چھوٹی عمر میں آخری صحابی کو اُس کی آخری عمر میں ملے۔اور وہ تبع تابعی بھی مومن تھا جو کسی آخری تابعی کو اُس کی آخری عمر میں ملا۔پھر وہ تبع تبع تابعی بھی مومن تھا جو آخری تبع تابعی کو اُس کی آخری عمر میں ملا۔پھر آج کل کے مسلمان بھی مومن ہیں۔لیکن ان سب مومنوں میں درجہ کا فرق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں پشاور کے ایک مخلص دوست حافظ محمد صاحب تھے۔وہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان گئے۔مولوی غلام حسین صاحب مرحوم بھی ساتھ