خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 294

$1955 294 خطبات محمود جلد نمبر 36 دل پر اپنی وحی نازل کی ہے اور میرے دل میں آہنی میخ کی طرح تو حید کا عقیدہ راسخ کر دیا ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے بتایا ہے بعض لوگوں نے اس آیت سے دھوکا کھایا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگ گئے ہیں کہ جو خیال دل میں پیدا ہو وہ وحی ہوتی ہے حالانکہ وحی زبان اور کان پر نازل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ہی اس کا قلب پر بھی نزول ہوتا ہے تا کہ اس کی تائید ہو جائے۔پھر اگر قرآن کریم میں صرف یہی آیت ہوتی کہ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ عَلَى قَلْبِكَ ہمیں دھوکا لگ سکتا تھا۔لیکن اس کے علاوہ اور بھی بعض آیات قرآن کریم میں آتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی کان اور زبان پر بھی نازل ہوتی ہے۔مثلاً جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ آیت تو یہی ہے کہ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِه که تو جلدی جلدی اپنی زبان نہ ہلا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ لسان پر بھی وحی نازل ہوتی ہے۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض اوقات وحی صِلْصِلَةُ الْجَرَس کی طرح آتی ہے 13 اور صِلْصِلَةُ الْجَرَس یعنی گھنٹی کی آواز کو کان کے ذریعہ سنا جاتا ہے۔اسی طرح آپ فرماتے ہیں۔وَأَحْيَاناً يَتَمَثَّلُ لِيَى الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِي فَاَوْعَى مَا يَقُولُ 14۔کہ کبھی فرشتہ آدمی کی شکل میں متمثل ہو کے میرے پاس آجاتا ہے اور وہ مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں اُس کی باتوں کو یاد کر لیتا ہوں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی زبان اور کان پر بھی نازل ہوتی ہے۔لیکن ساتھ ہی اس کا دل پر بھی نزول ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ شخص جس پر وحی نازل ہوتی ہے سب سے بڑا مومن ہو جاتا ہے کیونکہ اُس کے کانوں اور زبان کے ساتھ ساتھ اُس کے دل پر بھی وحی کا نزول ہوتا ہے۔اور چونکہ سارے عقائد اور خیالات دل سے ہی پیدا ہوتے ہیں اس لیے اگر دل پر وحی نازل ہوگئی تو یہ ساری چیز میں آپ ہی درست ہو جاتی ہیں۔۔غرض وحی کے کئی مراتب ہوتے ہیں۔انبیائے تشریعی کی وحی اور درجہ کی ہوتی ہے اور انبیائے بروزی اور ظلی کی وحی اور درجہ کی ہوتی ہے۔انبیائے بروزی اور ظلی وحی کو بھول سکتے ہیں لیکن انبیائے تشریعی اپنی تشریعی وحی کو نہیں بھولتے۔کیونکہ اگر شریعت ہی بھول جائے تو اُن کی امت تباہ ہو جائے۔اسی طرح انبیائے بروزی اور ظلی کی ایسی وحی بھی جو کسی سابقہ وحی کی تفصیل بیان کرنے یا کسی خاص نکتہ معرفت کے بیان کرنے کے لیے آتی ہے نہیں بھولتی کیونکہ اُس کے