خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 296 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 296

$1955 296 خطبات محمود جلد نمبر 36 تھے۔رستہ میں یہ بات شروع ہو گئی کہ مومن کا کیا مقام ہوتا ہے اور آیا ہم مومن ہیں یا نہیں ؟ ان کے ساتھ جتنے احمدی تھے اُن سب نے انکسار کے ساتھ یہ کہنا شروع کر دیا کہ تو بہ تو بہ ! ہم تو اپنے آپ کو مومن کہنے کی جرات نہیں کر سکتے ، یہ بڑی گستاخی ہے۔حافظ محمد صاحب بڑے جوشیلے احمدی تھے۔وہ کہنے لگے اچھا! اگر تم مومن نہیں ہو تو میں آج کے بعد تمہارے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا۔میں نے تو مومنوں کی اقتداء میں نماز پڑھنی ہے اور اگر تمہیں خود بھی یہ یقین نہیں کہ تم مومن ہو تو میں تمہارے پیچھے نماز کیوں پڑھوں۔چنانچہ انہوں نے اُن احمدیوں کی اقتداء میں نماز پڑھنی چھوڑ دی۔اسی طرح ایک سال گزر گیا۔اگلے جلسہ پر پھر یہ سب لوگ قادیان گئے تو مولوی غلام حسین صاحب مرحوم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا کہ حافظ صاحب نے ہماری اقتداء میں نماز پڑھنی چھوڑ دی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوئی ہے، آپ انہیں سمجھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حافظ محمد صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا حافظ صاحب ! اتنی سختی نہیں کرنی چاہیے۔مگر بات آپ کی ہی ٹھیک ہے۔اگر انسان اپنی ذات پر بھی حسنِ ظنی نہیں کرتا اور اپنے آپ کو مومن نہیں سمجھتا تو اُسے دوسروں نے کہاں مومن سمجھنا ہے۔پس اپنے او پر بدظنی کرنا بہت بُری چیز ہے۔اس سے پر ہیز کرنا چاہیے۔کیونکہ خدا تعالیٰ بھی اپنے بندے کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جس کی وہ اس سے امید کرتا ہے۔پس انسان کو سمجھنا چاہیے کہ چاہے اُس میں بعض کمزوریاں اور نقائص بھی ہوں آخر وہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لایا ہے، قرآن کریم پر ایمان لایا ہے، خدا تعالیٰ کی توحید کا اُس نے اقرار کیا ہے۔پھر وہ مومن کیوں نہیں؟ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ وہ بڑے درجے کا مومن نہ ہو بلکہ چھوٹے درجہ کا مومن ہو۔لیکن مومن ہونے سے اسے انکار نہیں کرنا چاہیے۔انکوائری کمیشن کے سامنے میں نے یہی بیان کیا تھا کہ جس طرح ایمان کے مختلف مدارج ہیں اسی طرح کفر کے بھی مختلف مدارج ہیں۔یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا جائے اُس کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ کا ہی منکر ہے۔بلکہ کفر کے معنے صرف انکار کرنے کے ہیں اور انکار ایسے شخص کا بھی ہو سکتا ہے جس پر حجت پوری نہیں ہوئی۔ایسا آدمی با وجود منکر ہونے کے بری الذمہ ہے۔اُس پر خدا تعالی کی طرف سے کوئی الزام نہیں۔اور انکار ایسے شخص کا بھی ہوسکتا ہے جس پر حجت تو پوری ہوگئی ہو لیکن وہ عقل کا پورا نہ ہو۔ایسا شخص