خطبات محمود (جلد 36) — Page 305
خطبات محمود جلد نمبر 36 305 $1955 ابھی امریکہ سے مجھے خط آیا ہے کہ نیو یارک میں تبلیغ کے لیے ایک مرکز کا ہونا ضروری ہے۔جب تک اپنا مکان موجود نہ ہو مبلغ کو ہر روز مکان بدلنا پڑتا ہے اور مالک مکان جب چاہے اُسے نکال سکتا ہے۔مبلغ رات دن محنت کر کے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے تعلقات پیدا کرتا ہے۔جب اُسے یہ امید ہو جاتی ہے کہ اب یہ لوگ اسلام کو قبول کر لیں گے تو مالک مکان کہہ دیتا ہے کہ میرا مکان خالی کر دو اور اُسے مکان کی تلاش میں کہیں اور جانا پڑتا ہے۔ہمارے ہاں تو اگر کوئی ایک مکان سے نکل جائے تو سو گز پر اُسے دوسرا مکان مل جاتا ہے۔لیکن وہ شہر چالیس چالیس پچاس پچاس میل میں پھیلے ہوئے ہیں اس لیے بعض دفعہ اُسے کئی میل دور کسی اور مقام پر جانا پڑتا ہے اور وہاں نئے سرے سے لوگوں سے تعلقات قائم کرنے پڑتے ہیں۔گویا یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہم ایک مبلغ سے یہ امید کریں کہ وہ شیخو پورہ میں تبلیغ کرے لیکن جب وہ اپنے ماحول میں لوگوں سے تعلقات پیدا کرلے تو اُسے وہاں سے راولپنڈی ، پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان بھیج دیا کی جائے۔جس مبلغ کو ہر وقت خطرہ ہو کہ ممکن ہے اُسے اچانک راولپنڈی، پشاور یا ڈیرہ اسماعیل خان جانا پڑے وہ شیخو پورہ میں اطمینان کے ساتھ کیسے تبلیغ جاری رکھ سکتا ہے۔یہی حال اُس شخص کا ہوتا ہے جو نیو یارک کے ایک محلہ سے مکان بدل کر دوسرے محلہ میں جاتا ہے کیونکہ وہاں بعض اوقات کی تیں تمہیں چالیس چالیس میل کا درمیان میں فاصلہ ہو جاتا ہے اور اس طرح پہلے واقف لوگوں سے تعلقات قائم رکھنے مشکل ہو جاتے ہیں۔بہر حال امریکہ والوں نے لکھا ہے کہ ہمیں دار التبلیغ کے لیے نیویارک میں ایک مکان کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ہم نے مکان کے حصول کی بڑی کوشش کی ہے لیکن چونکہ یہاں مکانوں کی قیمت بہت زیادہ ہے اور پھر گا ہک بھی بہت پڑتا ہے اس لیے ہمیں اب تک کامیابی نہیں ہو سکی تھی۔اب جس مکان کی ہمیں ایجنٹ نے اطلاع دی ہے وہ ایک لاکھ سینتیس ہزار روپے میں ملتا ہے۔اب تم سمجھ سکتے ہو کہ اگر ہر اہم مقام پر مرکز بنانے کے لیے ہمیں ایک لاکھ سینتیس ہزار روپے کی ضرورت ہو تو چھپیں تھیں لاکھ روپے سالانہ بجٹ کے بغیر یہ کام کیسے ہو سکتا ہے۔اُدھر ہمارے مبلغین کا یہ حال ہے کہ وہ اکیلے دنیا کی سب سے بڑی طاقت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی بہر حال جزا دے گا۔لیکن ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم محنت کریں اور