خطبات محمود (جلد 36) — Page 306
$1955 306 خطبات محمود جلد نمبر 36 اپنے بجٹ کو بڑھانے کی کوشش کریں تا کہ تبلیغ کا کام وسیع کیا جاسکے۔میں نے جلسہ کے موقع پر کہا تھا کہ ہمارے ملک کے زمیندار نہ تو صحیح رنگ میں محنت کرتے ہیں اور نہ اپنی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی آمد نہیں نہایت ہی قلیل ہیں۔یورپ کے بعض ممالک میں ایک ایک ایکڑ سے چودہ چودہ سور و پیہ سالانہ حاصل کیا جاتا ہے۔اگر اُس معیار پر ہماری آمد میں پہنچ جائیں تو اس وقت ہماری جماعت کے دوستوں کے پاس قریباً ایک لاکھ ایکڑ اراضی ہے۔اگر ہرایکڑ سے چودہ سو روپیہ سالانہ آمد ہو تو اس کے معنے یہ ہیں کہ صرف ہماری جماعت کے زمینداروں کی چودہ کروڑ روپیہ سالانہ آمد ہو جائے۔اس آمدنی پر اگر زمیندار ایک آنہ فی روپیہ بھی چندہ دیں تو جماعت کا چندہ ستاسی لاکھ پچاس ہزار روپیہ تک پہنچ سکتا ہے۔اور اگر وہ وصیت کر دیں اور آمد کا دسواں حصہ دیں تو ایک کروڑ چالیس لاکھ روپیہ چندہ آ جائے۔اگر اتنا چندہ جمع ہونے لگ جائے تو ہم ایک نیو یارک کیا بیسیوں شہروں میں مرکز بنانے کے لیے مکانات خرید سکتے ہیں۔ان ممالک میں یہ طریق ہے کہ مکان بیچنے والا قیمت کا ایک معمولی حصہ خریدار سے لیتا ہے اور باقی قیمت کرایہ کی شکل میں باقساط وصول کرتا رہتا ہے۔نیو یارک کے جس مکان کا میں نے ذکر کیا ہے اُس کی قیمت سن کر دل ڈر جاتا ہے۔لیکن اُس کا مالک کہتا ہے کہ مجھے ساری قیمت کا صرف 15 فیصدی ادا کر دیں۔اس کے بعد مجھے کرایہ دیتے رہیں جو قیمت میں شمار ہوتا رہے گا۔گویا اگر ہم کل قیمت کا صرف 15 فیصدی یعنی ہیں ہزار پانچ سوروپے ادا کر دیں تو ہمیں مکان مل جائے گا۔اس کے بعد جس طرح پہلے ہمارا مبلغ اپنے مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے اُسی طرح پھر بھی اُسے کرایہ ہی ادا کرنا پڑے گا۔مگر پھر یہ کرا یہ قیمت میں سے کٹ جائے گا اور مکان اپنا ہو جائے گا۔بہر حال سلسلہ کی ضروریات تقاضا کرتی ہیں کہ جماعت کے دوست اپنی آمد نہیں بڑھانے کی کوشش کریں تا کہ تبلیغ کو وسیع کیا جا سکے۔ہماری جماعت کا بیشتر حصہ زمینداروں پر مشتمل ہے۔انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی مستیاں ترک کر دیں اور صحیح طریق پر محنت کریں تا کہ ان کی آمد میں ترقی ہوا اور اس کے نتیجہ میں سلسلہ کا بجٹ بھی ترقی کرے۔