خطبات محمود (جلد 36)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 338

خطبات محمود (جلد 36) — Page 229

$1955 229 خطبات محمود جلد نمبر 36 نئے معنے کر ولیکن وہ معنے قرآن اور حدیث اور عقل کے مطابق ہونے چاہئیں۔مثلاً میں نے یہ ایک عقلی بات بتائی ہے کہ قرآن کریم میں تمام ضروری مضمون آگئے ہیں۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں وہ سارے مضامین نہیں۔اب اگر کوئی کہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات نعوذ باللہ قرآن کریم کے برابر ہیں یا وہ قرآن کریم پر مقدم ہیں تو اُس کو قرآن کریم کی ساری تعلیمیں چھوڑنی پڑیں گی۔اس کی اقتصادی تعلیم بھی اسے چھوڑنی پڑے گی ، اس کی اخلاقی تعلیم بھی اسے چھوڑنی پڑے گی ، اس کی سیاسی تعلیم بھی اسے چھوڑنی پڑے گی ، اس کی عائلی تعلیم بھی اُسے چھوڑنی پڑے گی ، اس کی تمدنی تعلیم بھی اسے چھوڑ نی پڑے گی۔پھر اس میں عبادات کے متعلق جو باتیں بیان ہوئی ہیں ، روحانیت کے متعلق جو باتیں بیان ہوئی ہیں ، ورثہ کے متعلق جو باتیں بیان ہوئی ہیں ، آپس کے لڑائی جھگڑوں کو دور کرنے کے متعلق جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ سب اُسے چھوڑنی پڑیں گی۔اور ان سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے نکالنا پڑے گا۔اور یہ یقینی بات ہے کہ وہ ان سب تعلیموں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات سے نہیں نکال سکتا۔اُس کو جھک مار کر آخر قر آن کریم کی طرف ہی جانا پڑے گا۔کیونکہ یہ ساری باتیں قرآن کریم میں ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں نہیں۔آپ کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں۔اور اگر خادم کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو وہ آقا کے پاس جاتا ہے اور اُس سے مانگ کر لے آتا ہے۔اسی طرح جو چیز حضرت مرزا صاحب کے الہامات میں نہ ہوگی وہ قرآن کریم سے ہم مانگ لیں گے اور اس طرح ہماری ہر ضرورت پوری ہو جائے گی۔ہم نے تو یہ کبھی دعوئی ہی نہیں کیا کہ مرزا صاحب کے الہامات اپنی کوئی علیحدہ حیثیت رکھتے ہیں۔وہ قرآن کریم کے خادم ہیں اور خادم کے پاس اگر کوئی چیز نہ ہو تو وہ آقا سے مانگ لیا کرتا ہے۔اس لیے اگر ہمیں کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو قرآن کریم سے مانگ لیں گے۔پھر جس طرح آپ کے الہامات قرآن کریم کے خادم ہیں۔اسی طرح حضرت مرزا صاحب محمد رسول اللہ ﷺ کے خادم ہیں۔محمد رسول اللہ الا اللہ اور قرآن کریم کے گھر میں سب کچھ موجود ہے۔وہاں کسی چیز کی کمی نہیں۔اس لیے جب بھی ہمیں کوئی تنگی پیش آئے گی ، جب بھی کوئی ضرورت پیش آئے گی ہم محمد رسول اللہ کے دروازے پر جائیں گے اور کہیں